مودی حکومت نے پاکستان پر واضح کر دیا کہ دہشت گردی کے نتائج کیسے برآمد ہوں گے:ایس جئے شنکر
سرینگر// سال 2008 کا ممبئی دہشت گردانہ حملہ ایک متعین لمحہ تھا جس نے ہند پاک تعلقات کو بری طرح متاثر کیا کا انکشاف کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ترقی کی ہے جبکہ پاکستان اپنی بری عادتوں میں پھنسا ہوا ہے۔سی این آئی کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ سال 2008کا ممبئی دہشت گردانہ حملہ ایک متعین لمحہ تھا جس نے بتا دیا کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ہندوستانیوں نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔گجرات کی چروتر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک انٹرایکٹو سیشن کے دوران بات کر تے ہوئے ایس جئے شنکر نے کہا کہ اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ ایک دہائی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان، ان کے خیال میں، اپنی ’’بری عادتوں ‘‘میں پھنسا ہوا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ ہندوستانی حکومت پاکستان پر عوامی سطح پر شاذ و نادر ہی کیوں بحث کرتی ہے، جے شنکر نے وضاحت کی کہ ان پر قیمتی وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا ’’ بھارت بدل گیا ہے۔ کاش میں کہہ سکتا کہ پاکستان بدل گیا ہے۔ وہ بدقسمتی سے، بہت سے طریقوں سے، اپنی بری عادتیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بھارت کے قریب جانے کا ایک انتہائی منفی طریقہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھوں گا، تو میں کہوں گا کہ 26/11کا ممبئی دہشت گردانہ حملہ ایک اہم موڑ تھا۔ میرے خیال میں یہ وہ وقت تھا جب ہندوستانی عوام، تمام سیاسی جماعتوں نے، کہا تھا کہ وہ اس رویے کو قبول نہیں کر سکتے۔”وہ یہ محسوس کر سکتا ہے کہ ملک کے لوگ اس رویے کو قبول نہیں کر سکتے‘‘ ۔ انہوں نے اس وقت کی کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت پر بھی پردہ پوشی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت کے ردعمل میں عوامی جذبات پوری طرح سے ظاہر نہیں ہوئے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سال 2014کے بعدجے شنکر نے کہا ’’مودی حکومت نے پاکستان پر واضح کر دیا کہ دہشت گردی کے نتائج کیسے برآمد ہوں گے۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی موجودگی کے دوران پاکستان کے دوہرے کھیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہی دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ بالآخر ان کے خلاف ہو گیا‘‘۔ہمارا آج کا برانڈ ٹیکنالوجی ہے، یہی فرق ہے۔ دہشت گردی ہوئی تو ہم جواب دیں گے، لیکن میں ان پر اپنا قیمتی وقت کیوں خرچ کروں؟۔










