گزشتہ چار سالوں میں 50لاکھ سے زائد مہاجر پرندوں نے کشمیر کی سیر کرکے آبی پنگاہوں پر ڈھیرہ جما لیا
سرینگر // سال 2023میں وادی کشمیر کے ویٹ لینڈس پر ریکارڈ مہاجر پرندوں کی آمد درج کی گئی کا دعویٰ کرتے ہوئے ویٹ لینڈس منتظمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں 50لاکھ سے زائد مہاجر پرندوں نے کشمیر کی سیر کرکے آبی پنگاہوں پر ڈھیرہ جما لیا ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کے آبی پناہ گاہوں میں مہاجر پرندوں کی بڑی تعداد ڈھیرہ جمع چکی ہے اور امسال ابھی تک 14لاکھ سے زائد پرندے وار کشمیر ہوئے ہیں ۔ وائلڈ لائف وارڈن ویٹ لینڈس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں میں وادی کے ویٹ لینڈس میں 50 لاکھ سے زیادہ مہاجر پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2022میں سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی جس میں 12 لاکھ مہاجر پرندوں نے کشمیر کا دورہ کیا۔محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، سال 2019 میں تقریباً 9 لاکھ مہاجر پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، 2020 میں 8 لاکھ، 2021 میں 11 لاکھ اور 2022 میں تقریباً 12 لاکھ اور سال 2013میں تقریبا ً14لاکھ پرندے کشمیر وارد ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اسال کشمیر کے ویٹ لینڈس میں مہاجر پرندوں کی تقریباً 70 اقسام کی آمد کو ریکارڈ کیا ہے۔جبکہ حکام نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ 84 سال بعد ولر جھیل پر مہاجر بطخ کی ایک نایاب نسل دیکھی گئی ہے۔ ہر سال سائبیریا، یورپ اور وسطی ایشیا سے لاکھوں ہجرت کرنے والے پرندے وادی کشمیر میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پہنچنے والے مہاجر پرندوں کی خاطر داری کیلئے محکمہ ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے اور ان کوتمام تر سہولیات بہم پہنچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ۔افشاں نے کہا کہ ہوکرسر اور دیگر قریبی ویٹ لینڈز میں تقریباً ایک لاکھ پرندے موجود ہیں جن میں کچھ نئی نسلیں شامل ہیں جیسے لمبی دم والی بطخ اور ریڈ بنٹنگ پرندوں کی چند اقسام بھی جو کئی سالوں کے بعد پہلی بار دیکھی گئیں۔انہوں نے لوگوں سے گزارش کی کہ وہ ویٹ لینڈز کی بحالی میں تعاون کریں کیونکہ ہجرت کرنے والے پرندے ہمارے مہمان ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔










