سابق مشیربصیر خان کے گھر میں CBIٹیم کاچھاپہ

سری نگر //مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے مشیر کے عہدے سے فارغ ہونے کے ایک ہفتے بعد بصیر احمد خان کے گھر پر چھاپہ مارا۔جے کے این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نئی دہلی سے سی بی آئی کی ایک ٹیم نے مقامی پولیس کے ہمراہ سری نگرکے بلبل باغ باغات علاقہ میں واقع سابق مشیراورریٹائرڈ آئی اے ایس افسر بشیر احمد خان کے گھر پر چھاپہ مارا،اوروہاں تلاشی کارروائی عمل میں لائی ،جو کچھ گھنٹوں تک جاری رہا۔ بتایاجاتاہے کہ سی بی آئی کی ٹیم نے بصیرخان کی رہائش گاہ سے کچھ چیزیں اپنی ضبطی میں لیں ۔ذرائع نے بتایا کہ چھاپے جعلی گن لائسنس ریکٹ یااسکنڈل کے سلسلے میں کئے جا رہے ہیں،اوراس اسکنڈل میں بصیرخان کانام بھی سامنے آیاہے ،کیونکہ انہوںنے مبینہ طورپر بطورڈپٹی کمشنر کے کچھ ایسی لائسینس اجراء کی ہیں ،جو جعلی گن لائسینس اسکندل سے جڑی ہیں ۔ مارچ 2020 سے سابق لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمو اور اُن کے جانشین منوج سنہا کے مشیر کے طور پر رہنے والے بصیر خان کو مرکزی وزارت داخلہ نے مبینہ طور پر بندوق کے لائسنس ریکیٹ میں اُن کے نام کے بارے میں سی بی آئی کے اعلیٰ افسران کی جانب سے مطلع کرنے کے بعد فارغ کردیا۔مرکزی وزارت داخلہ نے بصیر خان کو مشیر کے عہدے سے فارغ کئے جانے سے متعلق ایک حکمنامہ 12اکتوبر2021کوجاری کردیا،اوراُنھیں فوری طورپر لیفٹیننٹ گورنرکے مشیر کے عہدے سے فارغ کیا گیا ۔دریں اثنا مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے منگل کو جعلی گن لائسنس ریکیٹ کے سلسلے میں جموں و کشمیر ، مدھیہ پردیش اور دہلی کے 14 مقامات پر تلاشی لی۔