سائبر فارنسک سینٹر کے قیام کی تجویزپولیس ہیڈکواٹر کو ارسال

منی سیکیورٹی آپریشن سینٹر کیلئے 3.97 کروڑ روپے جاری،سائبر سیکورٹی نظام ہوگا مظبوط

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے سائبر سکیورٹی کے نظام کو مستحکم بنانے کے سلسلے میں سائبر فارنزک انویسٹی گیشن سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کی جامع تجویز تیار کرکے پولیس ہیڈکوارٹرز کو ارسال کر دی ہے، جبکہ منی سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کے قیام کیلئے 3.97 کروڑ روپے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق سائبر فارنزک لیبارٹریوں کا قیام محکمہ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور سی آئی سی ای کی تجویز مقررہ تکنیکی معیارات اور سفارشات کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ اس تجویز کو مزید کارروائی کیلئے پی ایچ کیو کے سپرد کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ منی سیکیورٹی آپریشنز سینٹرکے قیام سے سرکاری آئی ٹی نظام کی چوبیس گھنٹے نگرانی، خطرات کی بروقت نشاندہی اور مربوط ردِعمل کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے یونین ٹیریٹری میں سائبر نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔پالیسی سطح پر سائبر سکیورٹی نگرانی کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے، جس کے تحت چیف سیکریٹری کی صدارت میں ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آئی ٹی کے سیکریٹری کی سربراہی میں انفارمیشن سکیورٹی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ مختلف محکموں اور اضلاع میں چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسرزs، انفارمیشن سکیورٹی آفیسرز اور تکنیکی ماہرین نامزد کیے گئے ہیں تاکہ مربوط اور مؤثر ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔تمام سرکاری ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز، جو اسٹیٹ ڈیٹا سینٹر اور این آئی سی منی ڈیٹا سینٹر پر ہوسٹ کی گئی ہیں، کا لازمی سکیورٹی آڈٹ مکمل کیا گیا ہے جبکہ غیر فعال ویب سائٹس کو بند کر کے ممکنہ خطرات کو کم کیا گیا ہے۔سائبر کرائسس مینجمنٹ پلانز تمام انتظامی محکموں کی جانب سے تیار کیے گئے ہیں، جن میں سے 14 منصوبوں کو انڈئن کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپونس ٹیم کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔مزید اینڈ پوائنٹ ڈیٹیکشن اینڈ ریسپانس اور یونیفائیڈ اینڈ پوائنٹ مینجمنٹ سسٹمز کی بڑے پیمانے پر تنصیب عمل میں لائی گئی ہے۔ سرکاری ای میل (gov.in) کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے، یو ایس بی ڈیوائسز تک رسائی محدود کی گئی ہے اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کیلئے ہنی پاٹس نصب کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق سائبر سکیورٹی سے متعلق باقاعدہ تربیتی پروگرام، سائبر ڈرلز اور سائبر جاگرکتا مہمات بھی جاری ہیں، جبکہ ای سکیورٹی اسیسمنٹ اینڈ مینجمنٹ پورٹل کا اجرا عمل میں لایا گیا ہے تاکہ نگرانی اور رسک اسیسمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ سائبر سکیورٹی کیلئے بجٹ کی فراہمی محکمہ آئی ٹی اور محکمہ داخلہ کی مجموعی اسکیموں میں شامل ہے اور مرحلہ وار بنیادوں پر عمل درآمد، عملے کی تربیت اور ڈھانچے کی مضبوطی کے اقدامات جاری ہیں تاکہ ڈیجیٹل جموں و کشمیر کے وڑن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔