اے ایس آئی غلام حسن ، محفوظ علی اوررمیض احمدکی آخری رسومات میں لوگوںکی بڑی تعداد
سری نگر//سری نگر کے مضافات میں زیوان علاقے کے قریب سری نگر جموں ہائی وے پرسوموارکی شام پولیس بس پر ہوئے ہلاکت خیز جنگجوئیانہ حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر3 ہو گئی کیونکہ 12 زخمی پولیس اہلکاروں میں سے ایک منگل کی صبح ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔جے کے این ایس کے مطابق سوموارکی شام تقریباً6بجے پانتھ چوک زیون میں پولیس بس پرہوئے جنگجوئیانہ حملے میں آرمڈپولیس کی9ویں بٹالین سے وابستہ ایک اے ایس آئی سمیت کل14اہلکار زخمی ہوئے تھے ،جن میں سے اے ایس آئی غلام حسن ساکنہ نیل بھرتھنڈ رام بن اورایک کانسٹیبل محفوظ علی ساکنہ ماماکوٹی مہورے ریاسی ریاسی سوموارکی شام زخموںکی تاب نہ لاکر چل بسے تھے جبکہ مزید2اہلکاروںکی حالت کونازک بتایاگیاتھا۔ان میں سے ایک شدیدزخمی پولیس اہلکار رمیض احمدولدمحمدامین ساکنہ یچہامہ کنگن گاندربل منگل کی صبح اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔اوراس طرح سے اس حملے میں ازجان ہونے والے پولیس اہلکاروںکی تعداد3ہوگئی جبکہ11دیگراہلکاربادامی باغ میں واقع فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔دریں اثناء منگل کے روز جب تینوں مہلوک اہلکاروں بشمول اے ایس آئی غلام حسن اورکانسٹیبل محفوظ علی کے علاوہ رمیض احمدولدمحمدامین ساکنہ یچہامہ کنگن گاندربل کی میتوںکوآبائی علاقوں میں پہنچایاگیا تووہاں کہرام مچ گیا۔رمیض احمد کے بارے میں مقامی لوگوںنے بتایاکہ یہ اس کنبے کاواحدکفیل تھا۔انہوںنے کہاکہ رمیض کی المناک موت اس کنبے کے لئے ایک صدمہ جانکاہ ہے ۔بڑی تعدادمیںلوگوںنے رمیض احمدکی آخری رسومات میں شرکت کی جبکہ اسے پہلے مہلوک اہلکار کوپولیس کی جانب سے سلامی پیش کی گئی ۔










