زیلنسکی حکومت نے خود بتایا - یوکرین پر سب سے بڑے ڈرون حملے کی تیاری میں پوتن

زیلنسکی حکومت نے خود بتایا – یوکرین پر سب سے بڑے ڈرون حملے کی تیاری میں پوتن

ماسکو: روس- یوکرین جنگ اب ایک نئے اور انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اب یوکرین کے خلاف سب سے بڑا اور وسیع ڈرون حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی تصدیق خود یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی HUR کے ایک سینئر ذریعے نے کی ہے۔ یوکرینی انٹیلی جنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ روس اب ہر رات یوکرین کے اوپر 500 سے زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے روس نے نہ صرف اپنے ڈرون کی تیاری میں تیزی لائی ہے بلکہ 15 سے زائد نئی لانچنگ سائٹس بھی تیار کی ہیں۔ 2023 میں روس یومیہ صرف 21 ڈرون بناتا تھا لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 70 ڈرون یومیہ ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعداد مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
یکم جون کو ریکارڈ 472 ڈرون حملے
یکم جون کی رات، روس نے یوکرین پر بیک وقت 472 ڈرون حملے کیے، جو اس قسم کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ یہ تعداد جلد ہی 500 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اب تک روس کے پاس کرسک میں لانچنگ کے 5 اہم مقامات – کراسنودار علاقے کے دو بندرگاہی شہر (Yeysk اور Primorsko-Akhtarsk) اور کریمیا کے مقبوضہ علاقے (کیپ فیولنٹ اور کیپ چوڈا) لانچ کی تھی۔ لیکن اب روس ان سائٹس کے علاوہ 12-15 نئی سائٹس بنا رہا ہے، جن میں سے زیادہ تر تقریبا تیار ہیں۔ ان سائٹس سے ایک ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
روس اس وقت تین اہم قسم کے “ڈیپ سٹرائیک” (طویل فاصلے تک مار کرنے والے)ڈرون استعمال کر رہا ہے ۔ شاہید ڈرون (ایران سے درآمد کیا گیا)،شاہید کی روسی کاپی گیران ڈرون ، Garpiya A1 ( گراپیا-اے ون) ڈرون ( چینی پرزوں سے تیار کردہ نئی قسم)۔ اس کے علاوہ روس Gerber نامی جعلی ڈرون بھی بھیجتا ہے جو اصلی نظر آتے ہیں لیکن ان میں دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا۔ یہ یوکرین کے دفاعی نظام کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔