زکورہ سرینگر میں لشکر طیبہ کے2ملی ٹینٹ جاں بحق

زکورہ سرینگر میں لشکر طیبہ کے2ملی ٹینٹ جاں بحق

سری نگر/کے این ایس//شہر سرینگر کے زکورہ علاقے میں فورسزاور جنگجوئوں کے درمیان شبانہ مسلح تصادم آرائی میں لشکر طیبہ(ٹی آر ایف ) کے 2 لشکرملی ٹینٹ جاں بحق ہوئے ہیں پولیس نے بتایا مارے گئے ملی ٹینٹوں سے اسلحہ اور گولی بارود کے علاوہ قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا ہے ۔ اس دورانانسپکٹر جنرل آف پلویس (آئی جی پی) کشمیر وجے کمار نے بتایا مارے گئے ملی ٹینٹ لشکر طیبہ کے ساتھ وابستہ تھے جن میں اننت ناگ میں ایک ہیڈ کانسٹیبل علی محمد گنائی کے قتل میں ملوث تھا۔مقامی لوگوں نے بتایا علاقے میں شبانہ گولیوں کی گن گرج سے علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے سٹی رپوٹر نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا پولیس جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات شہر سرینگر کے مضافاتی علاقے کوزکورہ علاقے میں ایک سے 2جنگجوئوں کے موجودگی کے حوالے سے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد فوج پولیس اور سی آر پی ایف نیدوران شب ہی مشترکہ طورپر فوراًآپریشن شروع کر کے اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور جنگجوئوں مخالف آپریشن شروع کیا ہے انہوں نے کہا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر جنگجووں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی ، جس دوران فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی جو کچھ مدت تک جاری رہی ہے۔پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں 2ملی ٹینٹ ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہاکہ جھڑپ کی جگہ سے مہلوک ملی ٹینٹوں کی نعشیں برآمد کرکے اْن کے قبضے سے اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ادھر انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا کہ زکورہ سری نگر میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں لشکر طیبہ (ٹی آر ایف ) سے وابستہ دو جنگجو مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملی ٹینٹ کی شناخت اخلاق ہجام کے بطور ہوئی اور وہ ہیڈ کانسٹیبل علی محمد ساکن حسن پورہ اننت ناگ کے قتل میں ملوث تھا۔ اْن کے مطابق تصادم کی جگہ2پستول اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔ ان کی شناخت اخلاق احمد حجام ولد ابو احد حجام ساکن کجر فریسال کولگام اور عادل نثار ڈار ولد نثار احمد ساکنہ ملنگ پورہ کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم ایل ای ٹی (ٹی آر ایف) سے ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق، ہلاک ہونے والا عسکریت پسند اخلاق احمد جون 2021سے اور عادل نثار اگست2021 سے سرگرم تھا۔ مارے گئے دونوں عسکریت پسند عسکریت پسندوں کی درجہ بندی میں تھے اور دہشت گردی کے جرائم کے متعدد واقعات میں ملوث تھے جن میں پولیس/ایس ایف پر حملہ اور شہری مظالم شامل تھے۔ اس کے علاوہ، وہ بھونڈے نوجوانوں کو دہشت گرد گروہوں میں شامل ہونے اور OGW نیٹ ورک کو بحال کرنے کی تحریک دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مارا گیا جنگجو اخلاق 29/1.2022کو حسن پورہ اننت ناگ میں ہائی کورٹ علی محمد کے حالیہ قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ وہ 18.01.2022کو قائم موہ یاری پورہ روڈ پر ایک آئی ای ڈی دھماکے میں بھی ملوث تھا۔