زندگی کی رفتار برقرار رکھنے کیلئے اپنی رفتار دھیمی رکھنا لازمی

ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور والدین کی ذمہ داری حادثات کو کم کرسکتی ہے

سرینگر//وادی کشمیر میں آئے روز سڑک حادثات رونماء ہورہے ہیں۔ آج سے تیس برس پہلے وادی کشمیر میں سڑک حادثات کی شرح 0.5تھی لیکن آ ج یہ شرح 10.5تک پہنچ چکی ہے۔ سڑک حادثات میں اس قدر اضافہ ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنا، تیز رفتاری سے گاڑی، موٹر سائکل اور سیکوٹی چلانا، نابالغ لڑکے لڑکیوں کو ڈرائیونگ کی اجاز دینا ہے ۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سڑک حادثات میں انسانی جانوں کا ضیاع برابر جاری ہے ، ہر دن کسی نے کسی گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے اور ہر روز کسی نہ کسی گھر میں ماتم ہوتا ہے ۔روز ایک باپ سے اس کا بیٹا جدا ہوتا ہے ، ایک ماں کے بڑھاپے کا سہرا چھن جاتا ہے ، ایک ماں اپنے لخت جگر کا انتظار کرتی ہے لیکن اس کے مرنے کی خبر آتی ہے ۔ ایک بہن کی ڈولی کو کاندھا دینے والے بھائی کی لاش اس کے سامنے آتی ہے ایک بھائی اپنے ساتھی سے جدا ہوتا ہے ایک دوست دوست سے جدا ہوتا ہے ۔غرض وادی کشمیر میں اب یہ روز کی دستان بن گئی ہے شہر و گائوں میں ایک جیسی صورتحال ہے ۔ آج سے تیس برس پہلے وادی کشمیر میں سڑک حادثات کی شرح 0.5تھی لیکن آ ج یہ شرح 10.5تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ سالوں میں سڑک حادثات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیوں کہ ٹریفک بڑھتا ہے اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کم ہوتا ہے ۔ سڑک حادثات میں انسانی جانوں کا تلف ہونے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اگر ہم ملکی سطح پر نظر ڈالیں تو سڑک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اگرچہ 2010کے بعد عالمی سطح پر سڑک حادثات کی شرح میں 5فیصدی کمی واقع ہوئی ہے تاہم بھارت میں یہ شرح بڑھ رہی ہے اور سال 2022میں یہ سب بلندی پر رہی جس میں 11.9کا اضافہ دیکھا گیا اور اس سال ملک بھر میں 4.61لاکھ سڑک حادثات رونماء ہوئے تھے جن میں168,491مارے گئے ۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہر تین منٹ میں ایک سڑک حادثہ ہوتا ہے اور ہر دس منٹ میں سڑک حادثے میں موت واقع ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر ہم جموں کشمیر میں سڑک حادثات کی بات کریں تو یہاں پر بھی اس بارے میں کوئی بہتر صورتحال نہیں ہے بلکہ یہ دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ اگر ہم صرف رواں برس کی بات کریں تو سال رواں میں مارچ تک وادی کشمیر میں 1214حادثات رونماء ہوئے ہیں جن میں 185ہلاکیں رپورٹ ہوئیں جبکہ سڑک حادثات میں 1530افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ درالخلافہ سرینگر میں 96حادثات ریکارڈ کئے گئے جو کہ وادی کشمیر کے دیگر اضلاع سے سب سے زیادہ ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک 1214 حادثات میں سے 144 کو مہلک اور 1070 کو غیر مہلک قرار دیا گیا تھا ۔ اعدادوشمار کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ کے بعد سرینگر میں سب سے زیادہ سڑک حادثات ہوتے ہیں اور صرف مارچ کے مہینے میں ضلع میں 39حادثات ہوئے اور 6افراد کی جانیں چلی گئیں۔ ان اعدادوشمار کا یہاں ذکر کرنے کا غرض صرف یہ ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہم کہاں جارہے ہیں اور ہمارا سفر کس طرف جاری ہے کہیں یہ سفر ہمیں موت کی گلی تک نہیںلے جارہا ہے ۔ اگر ایک شخص صبح اپنے گھر سے اپنے روز مرہ کے کام کو انجام دینے کیلئے نکلتا ہے کہیں یہ اس کا گھر سے نکلنا اس کو قبرستان کے راستے تک نہیں لے جارہا ہے ۔ سڑک حادثات کا رونما ہونا اور اس پر قابو پانا یہ دو الگ الگ پہلو ہے سڑک حادثات رونما ہوتے رہیں گے لیکن کو ان کوکم کیا جاسکتا ہے عالمی سطح پر 5فیصدی حادثات میں کمی واقع ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقیافتہ ممالک میں سڑک حادثات کو روکنے کیلئے موثر طریقہ کار اپنا یا گیا ہے اور لوگ اس حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ کررہے ہیں اسی طرح ہمیں بھی حساس ہونے کی ضرورت ہے ۔ خاص کر نوجوانوں کو اپنی اور دوسرے لوگوں کی زندگی کی پرواہ کرنی چاہئے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ سڑک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ نوجوانوں کی ہوتی ہے کیوں کہ نوجوان موٹر سائکل ، سکوٹی اور گاڑیاں اتنی تیز رفتاری سے چلاتے ہیں کہ اس پر پھر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے ہم جب راستے ہیں چلتے ہیں تو سائیں سائیں کرتی ہوئی گاڑیاں اور موٹر سائکل ہمارے سامنے سے نکل جاتے ہیں ۔ سڑک حادثات کی روکتھام کیلئے جہاں ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ناگزیر ہے وہیں اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رفتار کو دھیمی کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہماری زندگی کی رفتار برقرار رہے۔