نئی دہلی :سائنسدانوں نے سورج کی روشنی کو منعکس کرنے اور عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے ماحول میں ہیرے کی دھول یعنی ڈائمنڈ ڈسٹ ڈالنے کی تجویز پیش کی ہے جو سلفر ڈائی آکسائیڈ کا ممکنہ طور پر محفوظ متبادل ہے۔جیسے جیسے زمین کی گرمی کے رجحانات میں شدت آتی جا رہی ہے سائنسدان فوری طور پر سیارے کو ٹھنڈا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں ایک حالیہ اسٹیڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ سورج کی روشنی کو منعکس کرنے اور عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے ہیرے کی دھول کو فضا میں داخل کر نے کا منصوبہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیرے کی دھول سب سے زیادہ موثر آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے جو روشنی اور حرارت کی سب سے زیادہ مقدار کی عکاسی کرتی ہے ۔ڈائمنڈ ڈسٹ کا استعمال نہ صرف جدید ہے بلکہ موجودہ طریقوں سے زیادہ محفوظ بھی ہو سکتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ، جو کہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کا ایک اہم انتخاب ہے، ماحولیاتی خطرات جیسے تیزاب کی بارش اور اوزون کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے برعکس ہیرے کی دھول کیمیاوی طور پر غیر فعال ہے یعنی یہ ماحولیاتی نظام میں نقصان دہ ضمنی اثرات متعارف نہیں کرائے گی۔اس تحقیق کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر سالانہ تقریباً 50 لاکھ ٹن مصنوعی ہیرے کی دھول ڈالی جائے تو 45 سالوں میں عالمی درجہ حرارت میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کی مالی اعانت کے لیے حیران کن $200 ٹریلین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔










