جموں//حکومت نے کہا کہ ملکیتی حاصل کی گئی زمین کا معاوضہ رائیٹ ٹو کمپنسیشن اینڈ ٹرانسپرنسی اِن لینڈ ایکوزیشن ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ ایکٹ 2013 اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ 1956 کی دفعارت کے مطابق طے کیا جاتا ہے ۔ وزیربرائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے یہ بات ایوان میں رُکن اسمبلی شبیر احمد کلے کے سوال کے جواب میں کہی ۔ وہ آج اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے جواب دے رہے تھے ۔ وزیرموصوف نے ایوان کو بتایا کہ کشمیر ڈویژن میں بعض کیسز میں زمین کے اصل استعمال ( باغات ) اور ریونیو ریکارڈ میں درج درجہ بندی کے درمیان تضادات دیکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کمشنر کشمیر کے ان پُٹس کے مطابق ایسے تغیرات عام طور پر ان کیسز میں پیدا ہوتے ہیں جہاں زمین کے مالکان نے خود وقت کے ساتھ ساتھ زرعی زمین کو قانون کے مطابق مقررہ طریقہ کار کی پیروی کئے بغیر باغیچوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ ریونیو ریکارڈ کو ربی اور خریف کی فصل کی معائینہ کے دوران باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے ۔ حکومت نے اضافی معاوضہ یا ریلیف کے مسئلے پر دوبارہ واضح کیا کہ یہ معاملہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت چلتا ہے اور اس کیلئے کوئی الگ سے انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔










