زمینوں کی سینچائی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی سے لوگوں میں بے اطمینانی

سرینگر / /وادی کشمیر میں بر ف سے ڈھکے گلیشرس سال بھر پانی مہیا کرنے کیلئے اہم وسیلہ ہیں ۔یہاں پانی کی بہتات کے باجود بھی لوگ زمینوں کی سنچائی کرنے یا پینے کا صاف پینے کی قلت رہتی تھی اورمحکمہ جھل شکتی یعنی اری گیشن وپی ایچ ای کا کام اتناہی ہے کہ وہ لوگوں کوزمینوں کی سینچائی اور پینے کیلئے پانی فراہم کریں لیکن ان محکمہ جات کے افسران کی لاپرواہی اور غفلت شعاری کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس مقصد کیلئے ان محکمہ جات کو معرض وجود میں لایا گیا تھا وہ مقصد ہی فوت ہوچکا ہے ۔کیونکہ یہاںکے شہر ودیہات میں سال بھرہاہاکار مچی رہتی ہے اور لوگ پینے کے پانی کی قلت کو لیکر سراپا احتجاج ہوتے ہیں جبکہ یہاں سال میں ایک ہی فصل اگائی جاتی ہے اورفصل کی پیدوار کو بڑھانے کیلئے صرف چند مہینے پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن متعلقہ محکمہ جات لوگوں کو پانی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیںجس سے لوگ ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ یہاں بیشتر علاقوں میں سربند اور آبی ذخائر ہیں لیکن محکمہ کی عدم توجہی سے ان کا پانی زمینوں تک پہنچانے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے جبکہ کروڑوں روپے کی اسکیمیں رائج ہیں۔ یہاں کوہلوں وندی نالوں کی صفائی ،باندھوں کی تعمیر اور پمپ شیڈ وں کی تنصیب کو تیار کرنے پر اربوں روپے کے رقومات صرف کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ۔لیکن یہ دعوے اس وقت سراب ثابت ہوتے ہیں جب یہاں کی کوہلوں وندی نالوں میں صفائی نہ کرنے کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر جمع ہیں اور باندھوں کی تعمیرمیں ناقص میٹرئیل کا استعمال اور نصب شدہ پمپ شیڈ و دیگر پروجیکٹ بے کار پڑے ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ آبشاروں ،جھیلوں وندی نالوں اور دریائوں کی سرزمین پانی کی قلت انسان کو حیران کرتی ہے ۔انہوں نے کہا سالانہ بنیادوں پر اری گیشن کو مستحکم بنانے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن ہرسال پانی کی سپلائی متاثر ہونے کا مسئلہ عوام کو درپیش رہتا ہے اورامسال بھی زمیندار زمینوں کی سینچائی کرنے کیلئے ترس رہے ہیں کیونکہ پمپ شیڈ بے کار ہیں کوہلیں اور ندی نالے خشک پڑی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں پانی دستیاب نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زمینداروں نے کھیتی باڑی مشکل سے ہی سہی تو کی ہے لیکن اب پانی کی عدم دستیابی کے باعث زمینوں کی سینچائی سے زمیندار قاصر ہیں جس سے فصلیں سوکھنے لگی ہیں اور زمیندار پریشان حال ہیں ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر سرکاری سطح پر زمینداروں کی راحت رسانی اور سینچائی کیلئے محکمہ ہذا کو اربوں روپے واگذار کئے جارہے ہیں تو سینچائی کیلئے پانی دستیاب کیوں نہیں ہے؟ جبکہ آئے روز پینے کے پانی کی قلت کے حوالے سے لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں لیکن متعلقہ افسران توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای اور اری گیشن کے متعلقہ افسران کوجوابدہ بنانے اور مختلف پروجیکٹو ں پر صرف ہوئے رقومات کی تحقیقات عمل میں لانے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ زمینداروں کو ہر سال پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پینے یا سینچائی کے لئے پانی کی سپلائی کے حوالے سے ان کی پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے ۔