زلزلہ خیز زون وی میں شامل جموں و کشمیر، تیاریوں کا فقدان تشویشناک قرار

اہم عمارتوں کی ریٹروفٹنگ نہیں، فنڈز اور ابتدائی وارننگ سسٹم بھی غائب

سرینگر/ یو این ایس//جموں و کشمیر میں زلزلوں سے نمٹنے کی تیاری انتہائی ناکافی پائی گئی ہے، حالانکہ یہ خطہ ’’سسمک زون5‘‘میں شامل ہے جو سب سے زیادہ خطرناک زمرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود نہ اہم عمارتوں کی ریٹروفٹنگ کی گئی ہے، نہ ہی ڈیزاسٹر میٹیگیشن کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور نہ ہی زلزلے کی ابتدائی وارننگ کے لیے کوئی نظام نصب کیا گیا ہے، جس سے تیاریوں میں سنگین خلا سامنے آیا ہے۔یو این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے انکشاف کیا کہ کشمیر وادی بیورو آف انڈئن اسٹڈاڈس کی درجہ بندی کے مطابق ’’سسمک زون5‘‘ میں آتی ہے، جس کے باعث یہ ملک کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد یونین ٹیریٹری میں انفراسٹرکچر اور عوام دونوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ہدایات کے باوجود جموں و کشمیر میں اب تک کسی بھی اہم انفراسٹرکچربشمول اسکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری عمارتوںکیریٹروفٹنگ نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ریٹروفٹنگ زلزلوں کے دوران نقصانات اور جانی ضیاع کو کم کرنے کا ایک بنیادی اور مؤثر طریقہ ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں خطرہ زیادہ ہو۔مالیاتی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق مالی سال 2025-26کے دوران نہ تو این ڈی آر ایف اور نہ ہیایس ڈی آر ایف سے جموں و کشمیر میں زلزلہ تیاری یا خطرات میں کمی کے کسی منصوبے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ اس حوالے سے کسی اضافی مالی امداد کی تجویز بھی زیر غور نہیں، جو ڈیزاسٹر ریزیلینس کو مضبوط بنانے میں سستی کی عکاسی کرتا ہے۔ابتدائی وارننگ سسٹم کے حوالے سے بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ این ڈی آر ایف نے خطے میں ایسا کوئی نظام نصب نہیں کیا بلکہ صرف ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے ساتھ مشاورتی اجلاس اور ورکشاپس منعقد کیے ہیں، جن میں زلزلہ پیما آلات ڈیٹا ٹرانسمیشن سسٹمز اور آخری مرحلے تک الرٹ پہنچانے کے نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ تاہم یہ اقدامات زمینی سطح پر تنصیب میں تبدیل نہیں ہو سکے۔دریں اثنا،سسمک مائکروزونیشن اسٹڈئزجو مقامی سطح پر زلزلے کے خطرات کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں—ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ سری نگر شہر کے لیے ایک سائنسی مطالعہ ستمبر 2022 میں مکمل کیا گیا تھا، جس میں کشمیر یونیورسٹی کے سی ایس آئی آر فورتھ پریڈجم انسٹی چیوٹ شامل تھے، تاہم جموں خطے میں اسی نوعیت کے مطالعات کا آغاز دسمبر 2025 میں ہوا اور وہ تاحال جاری ہیں۔حکومت کے مطابق ان مطالعات کی تکمیل کا انحصار جاری سائنسی تجزیوں پر ہے۔ان تمام انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ زلزلہ خطرے والے زون میں واقع ہونے کے باوجود جموں و کشمیر میں تیاریوں کا فقدان ہے، جس کے باعث اہم انفراسٹرکچر اور عوام کسی بھی ممکنہ تباہ کن زلزلے کے سامنے غیر محفوظ ہیں۔