زرعی اراضی کو تنگ کرنا انسانی وجود کیلئے باعث خطرہ

تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنامستقبل میں نئی نسل کیلئے نقصان دہ،بروقت تدارک کرنا لازمی

سرینگر /کے پی ایس / / زرعی اراضی پر سرکاری طور تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے پر اس لئے پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے آمدنی وروزی روٹی کے حوالے سے مسائل پیدا نہ ہوجائیں اور زمین تنگ ہوکر مستقبل قریب میں نئی نسل پریشان نہ ہوجائے ۔آبی اول اراضی میں یہاں دھان کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے اور وہ لوگوں کیلئے اشیائے ضروریہ میں سے زیادہ خرچ ہونے والی شئے ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر لوگ دھان کی فصل سے حاصل ہونے والا چاول ہی استعمال کرتے ہیں ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیری عوام کیلئے چاول ایک منفرد غذا ہے جس کے بغیر ان کی زندگی مشکل ثابت ہوگی ۔ ماضی میں یہاں لوگ اپنی زمینوں سے ہی چاول حاصل کررہے تھے اس کے علاوہ زرعی زمین جس میں فصلیں بشمول مکی ،دالیں ،سبزی اور میوہ باغات ختم ہونے جارہے ہیں کیونکہ اس کے لئے جو زمین مخصوص ہے اس پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے کا رجحان بڑ رہاہے تب سے یہاں دھان کی فصل پیداوار کم ہوتی گئی اور لوگ پنجاب سے در آمد ہونے والا چاو ل استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے جس سے یہاں کے خود کفیل لوگ اقتصادی بدحالی کے شکار ہونے لگے ۔ایک تو لوگ یہاں دھان اور دیگر فصلوں سے محروم ہونے لگے ۔دوسرا یہ کہ زرعی اراضی پر تعمیرکئے گئے مکانات یا ان کے صحنوں میں پانی جمع ہورہا ہے اور سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔سماج کے حساس طبقے نے کے پی ایس بتایا کہ زرعی اراضی پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے پرپہلے سے ہی پابندی عائد ہے اور تعمیر کرنے والوں کوپریشانیوں میں ہمیشہ دھکیل دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس زمین کی بھرائی کرنے کے باجود بھی یہ ڈہ جاتی ہے اور اس میں تعمیرکئے ہوئے ڈھانچوں کو ڈھ جانے اور زیر آب ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔انہوں نے لوگوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ زرعی اراضی پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے سے اجتناب کریں تاکہ وہ ان مشکلوں میں نہیں پڑیں اور سرکار وانتظامیہ کے افسران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ زرعی اراضی کو تنگ کرنے سے مستقبل میں پیش آنے والے خدشات اور پریشانیوں سے نئی نسل کو بچانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے تاکہ مستقبل قریب میں یہ پریشانی کا باعث نہ ہوجائے ۔