mukhtar abbas naqvi

زبردستی تبدیلی مذہب مذہب کی اشاعت کا پیمانہ نہیں بن سکتی:مختار عباس نقوی

اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے منگل کے روزکہاہے کہ جبری تبدیلی مذہب کسی بھی مذہب اور عقیدے کے پھیلاؤکاپیمانہ نہیں بن سکتا جس ملک میں مومن اور ملحد دونوں موجودہوں۔انہوں نے یہ تبصرہ یہاں مسیحی برادری کے ممتاز لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ ا شاعت دین اورمذہب کی تبلیغ جس کی قانون اجازت دیتاہے ،اس پرپابندی اورقدغن لگاناکس طرح درست ہے۔جب کہ دوسری طرف گھرواپسی کی مہم بھی چل رہی ہے۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہاہے کہ بھارت میں مومن اور ملحد دونوں کو یکساں آئینی اور سماجی حقوق اور تحفظات حاصل ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق ، نقوی نے کہا ہے کہ بھارت میں جہاں ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، جین ، بدھ ، پارسی ، یہودی ، بہائی ، دنیا کے تقریبا تمام مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں ، وہاں کوئی مذہب نہیں ہے۔ ہندوستان میں کروڑوں لوگ ہیں جو اس پر یقین نہیں رکھتے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے تہوار ایک ساتھ منائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس مشترکہ ورثے اور طاقت کو مضبوط رکھنا ہے۔