ریڈیو اور دور درشن میں مذہبی پروگراموں پر اجارہ داری

ریڈیو اور دور درشن میں مذہبی پروگراموں پر اجارہ داری

تمام مکاتبِ فکر کو نمائندگی دی جائے،مولانا اخضر حسین کا مطالبہ

سرینگر// یو این ایس/ / انجمن علمائے احناف کے سربراہ مولانا اخضر حسین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریڈیو کشمیر اور دور درشن کے مذہبی پروگراموں میں مخصوص افراد نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور وادی کے مقتدر علمائے کرام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، بالخصوص ماہِ رمضان المبارک کے دوران بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔ایک بیان میں مولانا اخضر حسین نے کہا کہ مذہبی نشریات میں صرف چند مخصوص چہروں کو بار بار موقع دیا جاتا ہے جبکہ دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علما کو نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے اس عمل کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی پروگرام عوامی امانت ہیں اور ان میں تمام مکاتبِ فکر کے علما کو مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریا ت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مولانا اخضر حسین نے کہا کہ دور درشن اور ریڈیو کشمیر جیسے اداروں کی تعمیر و ترقی میں جن افراد نے اہم کردار ادا کیا، انہیں اس طرح نظر انداز کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے اور مذہبی پروگراموں میں شفافیت اور توازن کو یقینی بنایا جائے۔