حساس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وقت درکار ،اسامیوں کو پرُکرنے افرادی قوت کی کمی کود ورکرنے میں مسلسل مشکلات حائل
سرینگر/ /اے پی آئی// ریزرویشن کے حساس معاملے کو حل کرنے کے لئے وزارت داخلہ میں صلح مشورہ جاری ،اوپن میرٹھ میں آ نے والے نوجوانوں کو بہت جلد انصاف دلایاجاسکتا ہیں ۔کابینہ کی سفارشات کو جموںو کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے وزارت داخلہ کوبیج دیاتاہم فوری طور پراس مسئلے کاحل مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہاہے ۔اے پی ا ٓئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیر میں ریزرویشن کامعاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ اور مشکل ہوتا جارہا ہے ۔سرکار کادعویٰ ہے کہ انہوںنے ایک سال کے دوران 1379اسامیاں پبلک سروس کمشن سروس سلیکشن بورڈ کو بیج دی تاہم ابھی تک ان سامیوں کو پرُ کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے او راسکی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیرمیں اوپن میرٹھ کے تحت آ نے والے نوجوانوں نے مطالبہ کیاکہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ ستر فیصد تعلیم یافتہ بیروز گاروں کے لئے صرف تیس فیصد سرکاری نوکریاں مقرر کی گئی ہے اور تیس فیصد آبادی سے تعلق ر کھنے والے لوگوں کے لئے ستر فیصد نوکریاں مقرر کی گئی ہے ۔یہ ناانصافی جموںو کشمیرکے اوپن میرٹھ کے تحت ا ٓنے والے بیروز گاروں کے لئے سم قاتل ہے ۔جموںو کشمیر حکومت نے اس مسئلے کوحل کرنے کے لئے تعلیم، صحت ،امداد باہمی کی وزیرسکینہ یتو کی سربراہی میں سب کمیٹی کاقیام عمل میں لاکر انہیں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم عرصے میں کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت کوپیش کی ۔نومبر 2025میں کابینہ نے سب کمیٹی کی سفارشات کوہری جھنڈی دکھاکر ریزرویشن کے معاملے کوحل کرنے کے لئے فائل ایل جی کوبیج دی ۔لیفٹینٹ گونر نے سفارشات کاباریک بینی سے مطالع کرنے کے بعد وزارت داخلہ کوبیج دی تاکہ اس پیچیدہ اور اہم مسئلے کو وزارت داخلہ ہی حل کریں ۔باوثوق ذررائع کے مطابق وزارت داخلہ نے سفارشات کے بارے میں کئی بار تبادلہ خیال کیاتاہم ابھی تک وزارت داخلہ نے ریزرویشن کے اس معاملے کوحل کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائیں ۔باوثوق ذررائع کے مطابق جن علاقوں کوپسماندہ قرار دیاگیاہے اور جوموجودہ دور میں پسماندہ نہیں رہے ہے ان کی ریزرویشن میں کمی لائی جائے گی ،اگر چہ انہیں دس فیصد کوٹہ ان کے لیئے مقرر کیاگیاہے اسمیں سے سات فیصد اوپشن میرٹھ کے تحت آ نے والوں کواگر دیاجائے پھر بھی انصا ف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہے ۔اب وزارت داخلہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے مذیدصلح مشورہ کر رہاہے ۔باوثوق ذررائع کے مطابق ریزرویشن کایہ معاملے فوری طور پر حل نہیں ہوسکتا ہے ا سکے لئے سٹیک ہولڈروں کواعتماد میں لینے اور مسئلے کا مستقل حل نکالنے کی ضرور ت ہے اس لئے یہ مسئلہ فی الحال التواء میں رہے گا جس سے جموں وکشمیرمیں سرکاری اداروں میں افرادی قو ت کی کمی کودور کرنے، تعلیم یافتہ بیروز گاروں کوروز گا ردلانے میں دکتوں کاسامناکرنا پڑیگا ۔اگر سرکاری اداروں میں موجودہ صورتحال کے تحت اسامیوں کوپرُ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائے تو اوپن میرٹھ میں آ نے والے ا س طریقہ کار کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے گے ۔فی الحال باوثوق ذررائع کے مطابق اداروں میں اسامیوں کو پرُکرنے افرادی قو ت کی کمی کودور کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے جاسکتے ہے ۔ باوثوق ذررائع کے مطابق ریزرویشن کاحساس معاملہ حل ہونے کے بعد اداروں میں خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے اورافرادی قوت کی کمی کود ور کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔










