رانچی/یو این آئی// جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے ڈی ایم ایف ٹی فنڈز اور معدنیات کی لوٹ کو لے کر ہیمنت سورین حکومت کو سخت نشانہ بنایا ہے ۔ مرانڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین جی، چائی باسا میں ڈی ایم ایف ٹی کے نام پر جو کھیل پہلے سے چل رہا تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ لیکن اب جو انکشاف ہورہا ہے ، وہ براہ راست حکومت کی سرپرستی میں چل رہی بدعنوانی اور غیر قانونی تجارت کی کہانی بیاں کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر روز خام لوہے کی غیر قانونی نقل و حمل کی وجہ سے غریب آدیواسی سڑک پر کچلے جا رہے ہیں، لیکن آپ کی حکومت کی بے حسی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ۔ معلومات کے مطابق روزانہ 40-60 ٹرک لوہے کی غیر قانونی نقل و حمل ہو رہی ہے … کیا یہ سب انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہے ؟ مرانڈی نے الزام لگایا ہے کہ خود کو آپ کا رشتہ دار بتانے والے سنتوش کشکو کے ذریعہ روزانہ چائی باسا ڈی سی کو گاڑیوں کی معلومات دی جاتی ہے ، جس سے یہ پورا غیر قانونی دھندہ بلا تعطل جاری رہے ۔ سنتوش ڈیبرا، منا خان اور سنی سنگھ جیسے کئی نام اس نیٹ ورک میں شامل بتائے جاتے ہیں۔ کیا ان سب کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے ؟ مرانڈی نے مزید کہا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اسمبلی اجلاس کے دوران دکھاوے کے لیے غیرقانوی نقل وحمل روک دی جاتی ہے ، تاکہ ایوان میں سوال نہ اٹھے اور باہر پنگامہ نہ ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امن و امان نہیں، بلکہ مینجمنٹ چل رہا ہے ۔ آپ کی حکومت نے ایسے کرپٹ اہلکاروں کی پوری فوج تیار کردی ہے ، جو اقتدار کے اشارے پر قانون کو کچل رہی ہے ۔ معدنی دولت کی کھلے عام لوٹ ہو رہی ہے ، ڈی ایم ایف ٹی فنڈز تک کو نہیں چھوڑا جارہا ہے اور لوٹ مار کے اس کھیل میں ہر دوسرے دن ایک قبائلی شخص کی جان ہائیوا کے نیچے کچل کر لے لی جارہی ہے ۔










