مرکزی سرکار جموں کشمیر کیلئے سٹیٹ ہڈ کی بحالی پر اپنا موقف واضح کرے ۔ عدالت عظمیٰ
سرینگر//وی او آئی//جموں کشمیر کو سٹیٹ ہڈ کی بحالی پر سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو چار ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکار اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے اور اس جمہوری عمل میں حائل رُکاوٹوں کے بارے میں کورٹ کو مطلع کریں ۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے ان درخواستوں پر غور کیا، جن میں مرکز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ یقین دہانیوں کے مطابق جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کرے۔وائس آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے سے متعلق دائر متعدد درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے ان درخواستوں پر غور کیا، جن میں مرکز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ یقین دہانیوں کے مطابق جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کرے۔درخواست گزاروں میں معروف ماہر تعلیم ظہور احمد بھٹ اور سماجی و سیاسی کارکن احمد ملک شامل ہیں، جنہوں نے دسمبر 2023 کے اْس آئینی فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھتے ہوئے مرکز کو ریاستی درجے کی بحالی کی ہدایت دی تھی۔مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں “نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے، اور وہاں پرامن انتخابات کے بعد منتخب حکومت قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک منفرد نوعیت کا مسئلہ ہے، جس میں کئی پہلو شامل ہیں، بشمول سرحدی تحفظ اور عالمی سطح پر جموں و کشمیر کی تصویر کشی۔ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے متعدد مواقع پر کیا ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر 2024 میں سری نگر کے شیرِ کشمیر اسٹیڈیم میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا تھا، “ہم نے پارلیمنٹ میں وعدہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست بنایا جائے گا۔ مارچ 2025 میں ٹائمز ناؤ سمٹ کے دوران امت شاہ نے اعلان کیا تھا کہ “ریاستی درجہ ضرور بحال کیا جائے گا، جب متعلقہ حالات کا جائزہ لے لیا جائے گا۔اگست 2025 میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ملاقاتوں نے اس معاملے پر قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی، خاص طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کی سالگرہ کے قریب۔جموں و کشمیر کی مقامی سیاسی جماعتیں، بشمول نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جموں و کشمیر اپنی پارٹی، اور کانگریس، مسلسل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے کارکنوں نے 9 اگست 2025 کو سری نگر میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، الطاف بخاری اور دیگر رہنما اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی شناخت، ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔جموں و کشمیر کے عوام، خاص طور پر نوجوان، تاجر، تعلیم یافتہ طبقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس عدالتی پیش رفت کو امید کی کرن سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونے سے مقامی حکومت کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، جس سے عوامی مسائل کا حل مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے مرکز کو چار ہفتے کی مہلت دیے جانے کو سیاسی تجزیہ کار ایک “اہم پیش رفت” قرار دے رہے ہیں۔ یہ عدالتی مداخلت نہ صرف قانونی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مرکز کو اپنے وعدوں کی تکمیل کی طرف عملی قدم اٹھانے پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔اگر مرکز سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جواب داخل کرتا ہے اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ پیش کرتا ہے، تو یہ جموں و کشمیر میں اعتماد، شفافیت اور ترقیاتی رفتار کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ریاستی درجے کی بحالی نہ صرف ایک آئینی تقاضا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، سیاسی وقار اور علاقائی خودمختاری سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت اور مرکز کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں اگر عملی شکل اختیار کرتی ہیں، تو یہ قدم نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔










