ہائی کورٹ کی سماعت کیلئے 27 دسمبر کی تاریخ مقرر
سرینگر/// یواین ایس / ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر اور لداخ نے جمعرات کو حراست میں لیے گئے عام آدمی پارٹی کیرکن اسمبلی معراج ملک ملک کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کی آئندہ سماعت 27 دسمبر کو مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے یہ تاریخ اس وقت طے کی جب درخواست گزار کی جانب سے اپنے دلائل مکمل کر لیے گئے۔معراج ملک، جو عام آدمی پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر بھی ہیں، کو 8 ستمبر کو مبینہ طور پر امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا۔ انہوں نے 24 ستمبر کو ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا (ہیبیئس کارپس) کی درخواست دائر کرتے ہوئے اپنی حراست کو چیلنج کیا اور پانچ کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔معراج ملک کے وکیل ایڈووکیٹ ایم ذوالقرنین چودھری نے صحافیوں کو بتایا کہ آج درخواست گزار کی جانب سے دلائل مکمل کر لیے گئے ہیں اور وکلا نے اپنا مقدمہ مثبت انداز میں عدالت کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اب آئندہ سماعت پر حکومت کی جانب سے اپنے دلائل پیش کیے جائیں گے، جس کے لیے عدالت نے 27 دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ درخواست گزار کی جانب سے ساڑھے تین گھنٹے تک دلائل دیے گئے، جن میں ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے پی ایس اے کے تحت معراج ملک کی حراست کی وجوہات کو تفصیل سے چیلنج کیا گیا۔ وکیل کے مطابق تمام نکات کو متعلقہ عدالتی فیصلوں کے ساتھ عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ ایڈووکیٹ ذوالقرنین نے کہا کہ اس مقدمے میں سینئر ایڈووکیٹ راہل پنت سمیت ایڈووکیٹ ایس ایس احمد، ایم طارق مغل اور اپو سنگھ سلاتیہ پر مشتمل وکلا کی ٹیم معراج ملک کی پیروی کر رہی ہے اور راہل پنت نے عدالت میں مضبوط دلائل پیش کیے۔










