محکمہ موجودہ صحت سہولیات کو آئی پی ایچ ایس 2022کے معیارات کے مطابق مضبوط بنانے اور توسیع دینے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔سکینہ اِیتو

رِیاسی حلقہ میں 36 ہیلتھ سب سینٹراور پی ایچ سی کام کر رہے ہیں۔ وزیر سکینہ اِیتو

جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو آگاہ کیا کہ رِیاسی حلقہ اِنتخاب میں 36 ہیلتھ سب سینٹرز اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سیز) کام کر رہے ہیں اور اِن سینٹروں میں اِس وقت 175 اہلکار تعینات ہیں۔وزیرموصوفہ یہ جواب رُکن اسمبلی کلدیپ راج دوبے کے سوال کے جواب میں دے رہی تھیں جس میں حلقہ میں صحت سہولیات کی صورتحال کے بارے میں اِستفسار کیا گیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ منظور شدہ 163 مستقل عملے ( جن میں ایم ایل پیز، ایف ایم پی ایچ ڈبلیوز، صفائی کارکنان اور دیگر زمروں کے ملازمین شامل ہیں) میں سے 101 اس وقت تعینات ہیں۔ اِسی طرح نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت منظور شدہ 78 عملے میں سے 74 اَفراد ان صحت مراکز میں تعینات کئے جا چکے ہیں۔وزیرصحت نے مزید ایوان کو بتایا کہ تین طبی/پیرا میڈیکل عملے کے اراکین کو ان کی اصل تعیناتیوں کے علاوہ بالخصوص رِیاسی حلقے کے حوالے سے دیگر مقامات پر منسلک یا تعینات کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ درابی پنچایت، ہروٹی کوٹ اور دھکی کوٹ پنچایت (دھکی کوٹ) کے دیہات میں اس وقت کوئی ہیلتھ سب سینٹر یا پی ایچ سی نہیں ہے۔اُنہوں نے مزید کہا،’’تاہم یہ علاقے اِنڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈرڈز( آئی پی ایچ ایس) 2022 کے معیارات کے مطابق سب سینٹر یا پی ایچ سی کے قیام کے لئے درکار کم از کم معیار پر پورا نہیں اُترتے۔‘‘