جموں//حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو بتایاکہ جموں و کشمیر میں رِنگ روڈ پروجیکٹوںکے تحت حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے کی ادائیگی مقررہ ضوابط کے مطابق کی جا رہی ہے جس میں وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں (ایم او آر ٹی ایچ) اور یو ٹی حکومت کے درمیان 90:10 کے تناسب سے رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے رُکن اسمبلی دیویانی رانا کے اُٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جموں میں رِنگ روڈ ضلع جموں اور سانبہ سے گزرتی ہے جبکہ صوبہ کشمیر میں یہ پروجیکٹ چھ اضلاع یعنی سری نگر، بارہمولہ، پلوامہ، بڈگام، گاندربل اور بانڈی پورہ پر محیط ہے۔ وزیر موصوف ایوان میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جواب دے رہے تھے۔اُنہوں معاوضے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ جموں میں معاوضے کے لئے جاری کردہ 270.11 کروڑ روپے میں سے 244.43 کروڑ روپے اَدا کئے جا چکے ہیں۔ صوبہ کشمیر میں جاری کردہ 1,514.34 کروڑ روپے میں سے 1,450.94 کروڑ روپے پہلے ہی تقسیم کئے جا چکے ہیں۔زیر اِلتوا ٔمعاملات کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ صوبہ جموں میں ضلع سانبہ کے 38 اور ضلع جموں کے 112 مقدمات ابھی نمٹائے جانا باقی ہیں۔ صوبہ کشمیر میں زیر اِلتوا ٔمقدمات میں سری نگر کے 57، بارہمولہ کے 7، بڈگام کے 247، گاندربل کے 905 اور بانڈی پورہ کے 32 مقدمات شامل ہیں۔وزیر جاوید رانا نے وضاحت کی کہ کچھ معاملات میں معاوضہ اس وجہ سے زیر اِلتوا ٔہے کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے بقایا فنڈز جمع نہیں کئے گئے، عدالتی مقدمات جاری ہیں، اراضی مالکان اور تحویل داروں کے درمیان ملکیتی تنازعات موجود ہیں یا دیگر اراضی سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔ایوان میںمزید بتایا گیا کہ ضلع جموں کے حوالے سے 3.73 کروڑ روپے بھومی راشی پورٹل پر اَپ لوڈ کئے جاچکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 57 اراضی مالکان کے ملکیتی تنازعات کے باعث 28.20 کروڑ روپے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں جمع کئے گئے ہیں۔وزیر نے یقین دِلایا کہ جن معاملات میں کوئی تنازع نہیں ہے ان میں بھومی راشی پورٹل کے ذریعے باقاعدگی سے معاوضے کی ادائیگی کی جا رہی ہے اور حکومت زیر اِلتوأ واجبات کو مقررہ مدت کے اندر کلیئر کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔










