جموں و کشمیر حکومت نے مبینہ ملاوٹ شدہ انڈوں کی فروخت پر انکوائری کا حکم دیا
سرینگر//وی او آئی//جموںکشمیر میں روٹن میٹ کے بعد ، پنیر ، سڑی ہوئی مچھلیوں اور مضر صحت گوشت کے کاروبار کا طشت از بام ہونے کے بعد اب ملاوٹ شدہ انڈوں کے کاروبار کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر سرکار نے اس معاملے کی تحقیقات اور جانچ کا حکم دیا ہے۔ا دھر عوامی حلقوںنے اس بات پر سخت تشویش اور برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا جموںکشمیر کے لوگوں کو اسی طرح ملاوٹ شدہ اشیائے خوردنی دے دے کر ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر حکومت نے مارکیٹ میں مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ انڈوں کی فروخت کے الزامات پر فوری انکوائری کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایک رکن اسمبلی تنویر صادق نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ان انڈوں میں زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وزیر برائے خوراک، سول سپلائز اور کنزیومر افیئرز کے دفتر سے جاری سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لیگل میٹرولوجی ڈپارٹمنٹ کے کنٹرولر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان الزامات کی جانچ کریں اور دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ وزیر کو پیش کریں۔ حکام کے مطابق اس انکوائری کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ا?یا واقعی ملاوٹ شدہ انڈے فروخت کیے جا رہے ہیں، اور اگر ایسا ثابت ہوتا ہے تو ان کے ماخذ کی نشاندہی کر کے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ یہ معاملہ عوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنا ہے اور حکومت نے یقین دلایا ہے کہ حقائق سامنے لانے اور ذمہ داری طے کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میںحال ہی میں سڑے ہوئے گوشت کے کاروبار کو طشت از بام کیا گیا تھا جس پر لوگوں نے سخت برہمی ظاہر کی تھی اور ہزاروں کوائنٹل سڑے ہوئے گوشت کو ضبط کیا جاچکا۔ تاہم اب انڈوں میں ملاوٹ ہونے کا انکشاف ہونے کے بعد لوگ حیرت زدہ ہے اور سوال کررہے ہیں کہ کیا جموں کشمیر کے عوام کو اسی طرح ملاوٹ شدہ اشیائے دیکر بیماریوں کے حوالے کیاجارہا ہے جو کہ نہ صرف انہیں صحت بگاڑ رہی ہے بلکہ ان مالی خسارہ بھی اْٹھانا پڑرہا ہے۔ عوامی حلقوںنے اس طرح کی لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑکرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیا ہے۔










