مغربی رہنماؤں نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ کریمیا کے بعد یوکرین کے دیگر علاقوں کا اپنے ملک سے الحاق نہ کریں جہاں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ روس یوکرین کے مزید علاقوں کو ضم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔مانیٹرنگ کے مطابق امریکا کا کہنا تھا کہ روس آنے والے دنوں میں یوکرین میں حکومتی تنصیبات پر حملہ کر سکتاہے، یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماسکو نے دھمکی دی ہے کہ وہ صدر پیوٹن کے قریبی ساتھی کی بیٹی کے قتل میں یوکرین کے ملوث ہونے کے بعد کسی قسم کا رحم نہیں کریں گے۔مغربی رہنماؤں نے یوکرین کے دارلحکومت کیف میں کریمیا پلیٹ فارم کانفرنس کے لیے ویڈیو پیغامات بھیجے، جس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور پولینڈ کے ہم منصب آندریج ڈوڈا نے ذاتی طور پر شرکت کی۔یورپی کمیشن کے صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے کانفرنس میں بتایا کہ روس نے 2014 میں قبضہ کر کے کریمیا کا اپنے ملک میں الحاق کر لیا تھا، فروری سے لےکر اب تک ماسکو کریمیا کو یوکرین پر حملوں کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور ساتھ ہی روس اب یوکرین کے دیگر علاقوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ پیوٹن کریمیا کی طرح یوکرین کے مزید علاقوں کے الحاق کی کوشش کریں گے، پیوٹن جھوٹے ریفرنڈم کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لہٰذا ایسے وقت میں ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے علاقوں کو زبردستی ضم کرنی کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، یوکرین کی سرزمین کو دھوکا دہی سے حاصل کرنے کی کوشش کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائےگا، اس طرح کے اقدامات مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ 2014 میں کریمیا کا الحاق انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے اور یوکرین کے لیے یورپی یونین کی حمایت طویل مدت تک جاری رہے گی۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ روس یوکرین کے جنگی قیدیوں کے خلاف مقدمہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جو جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ہمیں جو تصاویر اور فوٹیج موصول ہوئیں ہیں وہ تشویشناک ہیں کیونکہ یوکرین کے شہر ماریوپول کے فلہارمونک ہال میں موجود دھاتی پنجرے بنائے جارہے ہیں جو بظاہر جنگی قیدیوں کو پکڑنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔










