11ہزار روپے رشوت مانگنے کے الزام میں ڈپٹی فارسٹر اور ایک فارسٹ گارڈ گرفتار
سرینگر // رشوت خور ملازمین کیخلاف کارورائی جاری رکھتے ہوئے اینٹی کورپشن بیورو نے محکمہ جنگلات کے دو فارسٹ اہلکاروں کو 11ہزار روپے رشوت مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا۔سی این آئی کے مطابق اینٹی کورپشن بیورو جموں کشمیر نے شکایت کنندہ سے 11ہزار روپے رشوت طلب کرنے اور لینے کے الزام میں ایک ڈپٹی فارسٹر اور ایک فارسٹ گارڈ کو گرفتار کیا۔اے سی بی کے ایک بیان کے مطابق انہیں ایک شکایت موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ رینج آفس، کالیدھر میں ڈپٹی فاریسٹر کے طور پر تعینات سریندر کمار اور اس وقت کے فاریسٹ گارڈ کیول کرشن نے اضافی سی ڈی آر جاری کرنے کیلئے غیر قانونی تسلی کا مطالبہ کیا۔بیان میں لکھا ہے کہ ملزمین نے اضافی سی ڈی آر کے اجرائئی کیلئے شکایت کنندہ سے 14,000 روپے رشوت طلب کی تھی، جسے شکایت کنندہ نے ’’کمپارٹمنٹ نمبر K/12، ناڈا چارگیال فاریسٹ، کالی دھر فاریسٹ رینج میں 126 باؤنڈری ستونوں کی تعمیر کے کام کے دوران جمع کرایا تھا۔بیان کے مطابق ’’گفت و شنید کے بعد، ملزم ضروری کام کرنے کیلئے شکایت کنندہ سے 11,000 روپے لینے پر راضی ہو گیا۔ چونکہ شکایت کنندہ رشوت نہیں دینا چاہتا تھا اور اس نے سرکاری ملازمین کے قانون کے تحت ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کیلئے اے سی بی سے رجوع کیا‘‘۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ شکایت موصول ہونے پر، ایک محتاط تصدیق کی گئی، جس سے سرکاری ملازمین کی طرف سے رشوت کی مانگ کی تصدیق ہوتی ہے اور اسی کے مطابق، ایک مقدمہ ایف آئی آر نمبر 11/2025برائے انسداد بدعنوانی ایکٹ، 1988 اور سیکشن 61(2) کے تحت پولیس سٹیشن جموں میں درج کیا گیا اور تفتیش شروع کی گئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ٹریپ ٹیم نے ایک کامیاب جال بچھا دیا اور ملزمان آزاد گواہوں کی موجودگی میں شکایت کنندہ سے 11,000 روپے رشوت مانگتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔انہوں نے کہا کہ ’’ملزمان کو اے سی بی کی ٹیم نے موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔ آزاد گواہوں کی موجودگی میں ان کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کی گئی۔ مزید یہ کہ دونوں ملزمان کے رہائشی مکانات کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے‘‘۔










