رسم ورواج کے بڑھتے وادی میں ہزار دوشیزائیںنکاح سے محروم

سرینگر//وادی کشمیر میں دہائیوں سے نامساعد حالات اور کوناوائرس کی وجہ سے غربت میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے اور رسم ورواج بڑھتے رجحان کے نتیجے میں غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادیا ں نہیں ہوپارہی ہے تاہم درد دل رکھنے والے افراد اجتماعی یا انفرادی طور ایک مہم شروع کئے ہوئے ہیں اور اس مہم کے تحت وہ غریب ،یتیم اور نادار لڑکیوں کی مالی معاونت کرکے ان کی شادیوں کو یقینی بنانے میں رول ادا کرتے ہیں ۔کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سماج کے ذی حس افراد نے بتایا کہ وادی میں غربت کی وجہ سے لڑکیاں نکاح سے محروم رہتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہزاروں لڑکیاں افلاس کی وجہ سے شادی کی عمر بھی پار کرچکی ہیں اور ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کئی فلاحی اور سماجی انجمنوں نے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں شروع کی ہیں تاہم وہ اپنی حد استطاعت کے مطابق گنتی کے چند لڑکیوں کی شادیوں میں ان کی مالی معاونت کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ذرایعے محدود ہوتے ہیں ۔جبکہ ہزاروں لڑکیاں ایسے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں جن کی مالی بدحالی کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہوپارہی ہے اور وہ ہاتھ پیلے ہونے سے قاصر رہتی ہیں ۔اس سلسلے انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لائحہ عمل ترتیب دیکر غریب اور سفید پوس گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادیوں کیلئے فنڈس واگذار کریں تاکہ ان کی زندگیاں ان کیلئے اجیرن نہ بن جائیں گئی ۔انہوں نے سماج میںدرد دل رکھنے والے صاحب ثروت افراد کومالی تعاون دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق غریب لڑکیوں کی شادیاں انجام دینے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں اس طرح اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے اور سماج کے باغیور و ذی حس انسانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی طرف توجہ مبذول کریں۔