ایک لاکھ کے قریب مشن یوا کے تحت نوجوانوں کوروز گار دینے، حکومت کے دعوے کی عوامی حلقوں نے شدید تنقیدکی
سرینگر/اے پی آئی// جموں وکشمیر میں رخصت ہونے والے سال میں بیروز گاری کاچلینج ہنوز باقی ،منتخب حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود ادروں میں خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے اقدامات اٹھانے میں ناکام،یوا مشن کے تحت ایک لاکھ کے قریب نوجوانوں کوروز گار دینے کے دعوؤں کی عوامی حلقوں نے یہ کہہ کر شدید تنقیدکی کہ مالیاتی اداروں سے لون دلاکر بیروز گاروں کوروز گا ردینے کے دعوے ٹھیک نہیں ۔اداروں میں خالی پڑی اسامیوںکو پرُکرنے کی خاطرکارروائیاں عمل میںلانے کی ضرور ت ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کشمیرمیں دس دنوں تک جاری اسمبلی اجلاس کے دوران سرکار نے دعویٰ کیاکہ جموںو کشمیرمیں صرف تین لاکھ 57ہزار سات سو 90بیروز گاروں نے ایمپلائیمنٹ ایکس چینجوں میں اپنے نام رجسٹرکرائے ہیں ۔تیس نومبر تک مذید چار سو اکیس تعلیم یافتہ بیرو زگاروں نے اپنے نام رجسٹ کرائے ۔صوبہ کشمیرمیںدو لاکھ 8ہزار تعلیم یافتہ بے روز گاروں نے رجسٹریشن کرائی اور جموں صوبہ میں سال 2025کے دوران ایک لاکھ 91ہزار بیروز گاروں نے اپنے نام رجسٹر کرائے ۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق اننت ناگ میں 32ہزار نوسو 98پلوامہ میں 28ہزار 120کھٹوعہ میں 26ہزار 896کولگام میں 21ہزار کشتواڑ میں 8ہزار تعلیم یافتہ بے روز گاروں نے ایمپلائیمنٹ ایکس چینجوں میں اپنے نام رجسٹر کرائے ۔صوبہ کشمیر میںدو لاکھ 33ہزار نوجوانوں ایک لاکھ 87ہزار خواتین نے ایمپلائی منٹ ایکسچینجوں نے اپنے نام رجسٹر کرائیں ۔سرکار دعویٰ کررہی ہیں کہ سرکاری اداروں میں 17ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہے اور حکومت نے الیکشن کے دوران تعلیم یافتہ بے روز گاروں کویقین دلایا تھاکہ ایک سال میں ایک لاکھ تعلیم یافتہ بے روز گاروں کووہ سرکاری نوکریاں فراہم کریگی اب سرکار کادعویٰ ہے کہ یوا مشن کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کوروز گار دلانے کی کارروائی عمل میںلائی جائے گی ۔سرکار کے اس دعوے کوعوامی حلقوں نے شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بینکوں سے لون دلاکر نوجوانوں کوروز گار دلانے کے دعوے کس حد تک صحیح ہے ۔کیاجموںو کشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص پرائیویٹ سیکٹراس قد رمضبوط مستحکم ہے کہ ایک لاکھ کے قریب نوجوان چھوٹے صنعتی یونٹ کاری گری، ہنرمندی کاروبار کرپائینگے ۔حکومت تھیوری پربھروسہ کرتی ہے پریکٹیکل ان کے پا س نہیں ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق جموںو کشمیرمیں ہرسال آٹھ سے د س ہزار ملازمین اپنی مدت پور اکرنے کے بعد ریٹائرہوجاتے ہیں۔ ان جگہوں پرپچھلے بیس برسوں سے نئے ملازمین کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی جسکے نتیجے میں جموںو کشمیر کے سرکاری اداروں میں افرادی قوت برُی طرح سے کھٹک رہی ہے اور بیرو زگاری میں اضافہ ہورہاہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق2024کے اسمبلی الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ اُمیدقائم کی تھی کہ سرکار نئے حوصلوں نئے ولولوں کے ساتھ کام کرکے تعلیم یافتہ بے روز گاروں کے لئے روز گار فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گے ،تاہم سال2025راجبھون اور وزیراعلیٰ کے دفتر کے مابین صرف اختیارات کامعاملہ زیربحث بھی رہا اور اس معاملے نے جموںو کشمیرمیں بیروز گاری کے خاتمے تعمیرو ترقی کے کاموں کومکمل کرنے کے اقدامات کوبرُی طرح سے متاثرکیا۔عوامی حلقوں نے اب اُمیدظاہرکی کہ سرکار کادعویٰ ہے کہ صرف تین لاکھ 57ہزار بیروز گار نوجوان جموںو کشمیرمیں روز گار کے متلاشی ہیں۔ سرکار کایہ دعویٰ صحیح نہیں ہے ۔بلکہ جموںو کشمیرمیں بیروزاروں کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ ہیں ۔










