امدادی اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت دی
جموں//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات ، ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے جموں خطے کے سیلاب سے متاثرہ گاؤں بھرمینی ، گُھرا، سراری ، بٹھنڈی ، سنجواں اور چٹھا کا جامع دورہ کیا تا کہ زمینی صورتحال کا جائیزہ لیا جائے اور جاری امدادی اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی کی جائے ۔ دورے کے دوران وزیر نے بحالی کے کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور عمر عبداللہ کی حکومت کی جانب سے تمام متاثرہ خاندانوں کو بروقت امداد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ حکومت کے طور پر ہمارا کم از کم فرض ہے کہ ہم اس آفت سے متاثرہ لوگوں کی ضروریات کا تیزی اور ہمدردی کے ساتھ جواب دیں ، ہماری ترجیح فوری امداد ، بحالی اور ضروری خدمات کی بحالی پر ہے ۔ ‘‘ مسٹر رانا نے ڈونگی ہائیر سکینڈری اسکول کے امدادی کیمپ کا دورہ کیا جہاں بھرمینی گاؤں سے بے گھر ہونے والے کئی خاندانوں کو عارضی طور پر پناہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ، ان کے مسائل کو براہ راست سمجھا اور کیمپ میں فراہم کردہ سہولیات اور انتظامات کا جائیزہ لیا ۔ وزیر موصوف نے کمیونٹیز کیلئے صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے تقصان زدہ واٹر سپلائی اسکیموں کی فوری بحالی کا حکم دیا اور انہیں جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ عبوری طور پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ واٹر ٹینکرز تعینات کریں تا کہ تمام سیلاب زدہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں میں صاف پینے کے پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ افسران کو لوگوں کے مسائل براہ راست سُننے ، ان کی فوری ضروریات کو سمجھنے اور زمین پر جاری کوششوں کی نگرانی کرنی چاہئیے ۔ وزیر موصوف نے چٹھا گاؤں کا بھی دورہ کیا جہاں سیلاب کی وجہ سے متعدد گھروں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے متاثرہ آبادی کو یقین دلایا کہ حکومت بروقت امداد ، موثر بحالی اور تمام ضروری خدمات کی مکمل بحالی کو یقینی بنانے کی پابند ہے ۔ وزیر نے اپنے دورے کے اختتام پر وزیر اعلیی عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے عزم کو دوہرایا کہ وہ اس بحران کی گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی امداد اور بحالی کیلئے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا ۔










