رانا نے او بی سی ، ایس ٹی اور ایس سی کمیونٹیز کے ساتھ میگا آؤٹ ریچ پروگرام منعقد کیا

سماجی انصاف ، آئینی مساوات اور وقت کے پابند شکایات کے ازالے کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی

جموں//جمہوری شرکت کو گہرا کرنے اور سماجی انصاف کے آئینی منڈیٹ کو آگے بڑھانے کے ایک اہم اقدام میں وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے آج پنچائت بھون جموں میں دیگر پسماندہ طبقات ( او بی سیز ) شیڈولڈ ٹرائیبز ( ایس ٹیز ) اور شیڈولڈ کاسٹس ( ایس سیز ) کے اراکین کے ساتھ ایک دن بھر کا میگا پبلک آؤٹ ریچ پروگرام منعقد کیا ۔ یہ آؤٹ ریچ ایک حقوق پر مبنی شرکتی پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا تھا جس سے تاریخی طور پر پسماندہ اور سماجی طور پر ناانصافی کا شکار کمیونٹیز کو براہ راست اپنی شکایات ، حقائق اور ترقیاتی خواہشات کو حکومت کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا ۔ اس انٹر ایکشن میں او بی سی اور ایس سی /ایس ٹی کمیونٹیز کے متعدد ارکان کے علاوہڈائریکٹر ٹرائیبل افئیرز جموں و کشمیر ، ڈائریکٹر ٹرائیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جموں و کشمیر ، کنزرویٹر آف فاریسٹ ، چیف انجینئر جل شکتی ، چیف انجینئر ایری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول اور مختلف متعلقہ محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی ۔ اس انٹر ایکشن کا مقصد فائل پر مبنی حکمرانی سے آگے بڑھ کر لوگوں پر مبنی انتظامیہ کی طرف جانا تھا تا کہ عوامی پالیسی زمینی تجربات سے مستفید ہو اور آئین میں تصور کردہ مساوات ، وقار اور تقسیم انصاف کے اصولوں کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرے ۔ وزیر نے خطاب کرتے ہوئے حاضرین سے مخاطب ہو کر زور دیا کہ معنی خیز عوامی رابطہ ( پبلک آؤٹ ریچ ) ریاست کی طرف سے کوئی احسان نہیں بلکہ خاص طور پر پسماندہ کمیونٹیز کیلئے ایک آئینی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے تاکید کی کہ بالخصوص ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی آبادیوں کیلئے شفاف ، قابلِ رسائی اور جوابدہ حکمرانی تاریخی استثناء کو ختم کرنے اور سبسٹینٹو مساوات ( حقیقی برادری ) کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے ۔ شیڈولڈ کاسٹ کمیونٹی کے ایک وفد نے بوریا فلٹریشن پلانٹ کے مسئلے کو اٹھایا ، اس کی جلدمرمت اور اپ گریڈیشن کا مطالبہ کیا ۔ کٹرا سے جگل کشور نے پانی کی سپلائی پائیپوں کے خراب ہونے ، رساؤ کی وجہ سے سڑکوں کی خرابی اور بعض علاقوں میں شدید پانی کمی کو اجاگر کیا ۔ سانبہ سے یش پال ورما نے اضافی ٹیوب ویلوں کی تنصیب اور خواتین کالج کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ سانبہ اور کٹھوعہ کے وفود نے سڑکوں کی رابطہ کاری ، رساؤ والی پائپ لائنوں اور کنڈی علاقوں میں پانی کی کمی کے مسائل اٹھائے ۔ کرم دین چوپڑا نے باقاعدہ منظم تعاملات اور پسماندہ کمیونٹیز کی ایڈوائیزری کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کی ۔ ریاسی اور بارنوٹی ، کٹھوعہ کے وفد نے پانی کے ذرائع کے خشک ہونے کو نمایاں کیا ۔ محمد عباس نے ریاسی سے مہور ، بوٹھوی اور الپیتھ علاقوں کے ترقیاتی مسائل اٹھائے ۔ گول گجرال سے گوجر وفد نے جنگلات کے محکمے سے روائتی ہجرت کے راستوں پر پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ۔ وزیر نے ان مسائل کا جواب دہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی براہ راست ملاقاتیں زمینی حقایق کو ظاہر کرتی ہیں جو عام رپورٹنگ کے طریقہ کار میں اکثر چھپے رہتے ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام شکایات کو منظم طریقے سے دستاویزی شکل دی جائے گی اس کے بعد وقت کے پابند ایکشن پلان بنائے جائیں گے ، باقاعدہ فیلڈ جائیزے کئے جائیں گے اور احتساب کے مضبوط نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا ۔