راشن کی تقسیم کاری نظام

راشن کی تقسیم کاری نظام

6,627 فیئر پرائس شاپس سے نجی ڈیلروں کا غلبہ برقرار

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں عوامی تقسیم نظام کے تحت مجموعی طور پر 6,627 فیئر پرائس شاپس کام کر رہی ہیں، جہاں سرکاری ڈپو کے مقابلے میں نجی ڈیلرز کی واضح برتری سامنے آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ نظام یونین ٹیریٹری کے تمام 20 اضلاع میں پھیلا ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویژن میں 2,885 جبکہ کشمیر ڈویڑن میں 3,742 فیئر پرائس شاپس قائم ہیں، جو خطے میں راشن کی تقسیم کے وسیع نیٹ ورک کی عکاسی کرتے ہیں۔جموں ڈویژن میں ہر ضلع میں نجی دکانوں کی تعداد سرکاری ڈپو سے زیادہ ہے۔ جموں ضلع میں مجموعی طور پر 788 دکانیں ہیں جن میں 715 نجی اور 73 سرکاری ہیں۔ سانبہ میں 125 (110 نجی، 15 سرکاری)، کٹھوعہ میں 286 (251 نجی، 35 سرکاری) جبکہ ادھمپور میں 177 دکانیں (152 نجی، 25 سرکاری) کام کر رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق اسی طرح ریاسی میں 189 (164 نجی، 25 سرکاری)، راجوری میں 479 (451 نجی، 28 سرکاری) اور پونچھ میں 187 دکانیں (167 نجی، 20 سرکاری) موجود ہیں۔ ڈوڈہ میں 288 (243 نجی، 45 سرکاری)، کشتواڑ میں 132 (106 نجی، 26 سرکاری) اور رام بن میں 153 دکانیں (127 نجی، 26 سرکاری) فعال ہیں۔کشمیر ڈویژن میں بھی یہی رجحان برقرار ہے جہاں سری نگر، گاندربل، بڈگام، پلوامہ، شوپیاں، کولگام، اننت ناگ، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ اضلاع میں نجی ڈیلرز اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی بنے ہوئے ہیں جبکہ سرکاری ڈپو محدود تعداد میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔حکام کے مطابق حکومت جموں و کشمیر ٹارگیٹیڈ پبلک ڈستی بیوشن سسٹم کنٹرول آرڈر 2023 کے تحت مزید فیئر پرائس شاپس قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ہر پنچایت، میونسپل وارڈ یا شہری مقامی ادارے کی سطح پر آبادی اور رسائی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دکانیں کھولی جائیں گی۔پالیسی کے مطابق مستفیدین کو 1.5 سے 2 کلومیٹر کے دائرے میں راشن کی سہولت فراہم کرنا ہدف ہے، جبکہ نئی دکانوں کے قیام کے فیصلے نامزد کمیٹیاں کریں گی تاکہ نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں عوامی تقسیم نظام بڑی حد تک نجی شراکت داری پر منحصر ہے، تاہم حکومت اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دے کر آخری صارف تک بہتر خدمات پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے