راجوری میں بکر وال خاندانوں پر ہراسانی کے الزامات

راجوری میں بکر وال خاندانوں پر ہراسانی کے الزامات

گجر و بکر وال تنظیمیں فوری مداخلت اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہیں

سرینگر/ یو این ایس// جموں و کشمیر گجر بکر وال یوتھ ویلفیئر کانفرنس اور جموں و کشمیر فارسٹ رائٹس کولیشن نے راجوری کے مہاری گجران علاقے میں سات خانہ بدوش بکر وال خاندانوں کے ساتھ جاری ہراسانی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو وہ بھرپور احتجاجی مہم چلائیں گے۔یو این ایس کے مطابق ان انجمنوںکا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات کے اہلکار گزشتہ دو سال سے ان خاندانوں کو جنگلاتی زمین کے تحفظ کے بہانے ہراساں کر رہے ہیں، جو 2006 کے جنگلاتی حقوق قانون اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور معاش کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیموں نے زور دیا کہ اگر کوئی اہلکار ان تحفظات کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف ایس سی،ایس ٹی ظلم و زیادتی روک تھام ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔متاثرہ خاندانوں کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں، جیسے راشن کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار، لیکن اس کے باوجود انہیں دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے۔انجمنوں نے عالمی سطح کے وعدوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں پائید ترقیاتی مقاصد10 کے اصولوں کے منافی ہیں، جس کا مقصد معاشرتی عدم مساوات کو کم کرنا ہے۔مقامی سرپنچ شازیہ تبسم چودھری نے گزشتہ دو سال کے دوران اس معاملے کو کئی بار اٹھایا اور متعدد حکام سے رابطہ کیا تاکہ خاندانوں کو بے دخلی سے بچایا جا سکے، لیکن ریلیف حاصل نہیں ہو سکا۔ تنظیموں کے مطابق طویل غیر یقینی صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کی روزگار کی سرگرمیوں اور بچوں کی تعلیم کو متاثر کیا ہے۔تنظیموں نے وزیر قبائل امور جاوید احمد رانا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کریں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ محکمہ قبائل امور کو جنگلاتی حقوق قانون کے تحت مرکزی نگران ایجنسی کے طور پر کام کرنا چاہیے اور خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کیس درج کرنے کی سفارش کرنی چاہیے۔