نوجوان آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ مقامی تاجر پریشان
سرینگر//وادی کشمیر کے دیہی علاقوں میں بھی آن لائن خریدا ری کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے چھوٹے بڑے دکانداروں کا کاروبا ر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وائس آف انڈیاکے مطابق آن لائن شاپنگ سے بازاروں کی رونق کم ہوگئی ہے۔خاص طور سے نوجوان طبقہ آن لائن شاپنگ کو ترجیح دے رہا ہے۔ اب گائوں میں رہنے والے نوجوان بھی چھوٹے سے چھوٹا سامان خریدنے کیلئے اپنا موبائل استعمال کر رہے ہیں جس سے مارکیٹ کے دکانداروںکا کاروبار تیزی سے سمٹ رہا ہے۔ پہلے میٹرو شہر، پھر شہر اور اب دیہی علاقوں میں آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ گاہکوں کی آن لائن خریداری میں دلچسپی بڑھنے سے خردہ دکانداروں کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔ لاکھوں کی لاگت لگا کر دکاندار گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔دکان کا کرایہ اور اسٹاف کا خرچ نکال پانا مشکل ہو گیا ہے۔ آن لائن بازار میں گاہکوں کو دیئے جانے والے مختلف طرح کے آفر سے صارفین متاثر ہو رہیہیں۔ موبائل کی ایک کلک پر گھر گھر کپڑا، جوتا، موبائل،ٹی وی،فریج اورفرنیچر تک پہنچ رہا ہے۔ کم قیمت میں سامان ملنے اور وقت کی بچت سے زیادہ تر افراد کا آن لائن مارکیٹنگ پر زوردے رہے ہیں۔ وقتاًفوقتاً آن لائن مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ مختلف طرح کے آفر بھی دیئے جارہے ہیں۔ اس طرح آن لائن خریداری میں سامان کم قیمت پر ملتا ہے۔ مشتاق احمد گنائی کپڑے تاجر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن شاپنگ سے بازار پر منفی اثر پڑا ہے۔ حکومت کو اس بارے میں سوچنا چاہئے۔ ایسے ہی چلتا رہا تو خردہ تاجر کیا کریں گے۔ آن لائن شاپنگ کی ایک حد متعین ہونی چاہئے۔ رڑیمیڈ تاجر طاریق احمد نایک کہتیہیں کہ سب سے زیادہ اثر کپڑا تاجروں پر پڑ رہا ہے۔پہلے کے مقابلے نوجوانوں میں آن لائن شاپنگ کا رجحان زیادہ ہے۔جبکہ آئے دن صارفین ٹھگی کا شکار ہو رہیہیں۔ تاجروں کیحق کو دیکھتے ہوئے حکومت کو آن لائن مارکیٹنگ کے ضوابط سخت کرنے ہوں گے۔ جوتا تاجر بشیر احمد ہارونے وی او آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ آن لائن شاپنگ خردہ تاجروں کیلئے مشکلیں کھڑی کر رہی ہے۔ آن لائن شاپنگ میں طرح طرح کے آفر دینے سے تاجر لگاتار متاثر ہو رہے ہیں۔ خردہ تاجروں کیلئے اپناخرچ نکالنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔










