دیہی او ردُور دراز علاقوں میں طبی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ سکینہ اِیتو

کولگام و اننت ناگ کے دیہات میں این ٹی پی ایچ سیز او رپی ایچ سی کا اِفتتاح کیا

کولگام / اننت ناگ //وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے جموں و کشمیر میں صحت سہولیات کو مضبوط بنانے کو اوّلین ترجیح دی ہے بالخصوص دیہی اور دُور افتادہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اِن باتوں کا اِظہار وزیر موصوفہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام اور اننت ناگ اَضلاع کے مختلف دیہات میں طبی سہولیات کا اِفتتاح کرتے ہوئے کیا۔وزیر صحت نے اَروانی گاؤں میں نئی تعمیر شدہ نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر (این ٹی پی ایچ سی) کا اِفتتاح کیا جو تقریباً 2.71 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی بجی بہاڑہ ۔سرگفورہ ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سی ایم او کولگام، بی ایم او کیموہ، دیگر سینئر افسران اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ بھی موجود تھے۔وزیر سکینہ اِیتو نے اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان طبی مراکز کا قیام حکومت کے اُس وسیع تر ویژن کا حصہ ہے جس کا مقصد نچلی سطح پر معیاری، قابل رَسائی اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت جموں و کشمیر میں صحت سہولیات کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ طبی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں حکومت کی اوّلین ترجیح ہے تاکہ خدمت کی فراہمی میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔اِس موقعہ پررُکن قانون ساز اسمبلی بجی بہاڑہ ۔سرگفوارہ نے بھی خطاب کیا اور حکومت کی حالیہ کامیابیوں کو اُجاگر کیا۔ بعد میں سکینہ اِیتو نے فتح پورہ اننت ناگ اور برنٹی اننت ناگ کا دورہ کیااور انہوں نے وہاں بالترتیب نو تعمیر شدہ این ٹی پی ایچ سی او رپی ایچ سی کا افتتاح کیا۔ ان تقاریب میں رُکن اسمبلی اننت ناگ ویسٹ عبدالمجید لارمی،ممبر قانون ساز اسمبلی اننت ناگ، سی ایم او اننت ناگ، بی ایم او ویری ناگ، دیگر سینئر اَفسران اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔وزیر صحت نے ان مقامات پر افتتاحی تقریبات کے دوران بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مراکز کا اِفتتاح حکومت کے اُس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ صحت سہولیات کو مزید جامع اور ہر فرد کے لئے قابل رسائی بنایا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ کوئی مریض علاج سے محروم نہ رہے اور ہر کنبے کو ان کے گھروں کے قریب بروقت اور سستی علاج تک رَسائی حاصل ہو۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے کہ جموں و کشمیر کے ہر کونے میں معیاری طبی سہولیات بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں دستیاب ہوں۔ اُنہوں نے کہا، ’’حکومت کی توجہ نئے ہیلتھ سینٹروںسے لے کر ایم آر آئی اور کیتھ لیبز تک، مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے اور سہولیات کولوگوں کی دہلیز تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔‘‘سکینہ اِیتو نے مزید بتایا کہ یہ طبی مراکز جدید تشخیصی سہولیات، ضروری اَدویات، زچگی اور بچوں کی صحت کی خدمات اور تربیت یافتہ طبی عملے سے لیس ہوں گے تاکہ مقامی کمیونٹی کی احتیاطی اور علاج معالجے کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر رُکن قانون ساز اسمبلی اننت ناگ ویسٹ عبدالمجید لارمی نے بھی خطاب کیا۔اِس سے قبل سکینہ ایتو نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول فتح پورہ اننت ناگ کا اچانک دورہ کیا اور اِدارے کے تعلیمی معیار کا جائزہ لیا۔ اُنہوںنے سکول کے احاطے کا تفصیلی معائینہ کیا اور اساتذہ اور دیگر عملے سے بات چیت کی۔انہوں نے طلبأسے بھی بات چیت کی اور ادارے میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں ان کی رائے حاصل کی۔