editorial

دینی اِقدار کی حِفاظت

جدیدیت کی اندھا دھند تقلید نے انسانی برادری کو بے حیائی، بے غیرتی، بے راہ روی اور بد اخلاقی کی اس منزل تک پہنچا دیا ہے جہاں جنسی بربریت اور دوسری بے ہودہ حرکتوں نے انسانیت کو پلید کر کے چھوڑا ہے۔ تنہائی کے احساس نے انسان کو منشیات کا عادی اور عیاشی کے جذبے نے اُسے درندہ بنا دیا ہے۔ آج سڑک پر کسی نوجوان کو چلتا دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ نوجوان لڑکی ہے یا لڑکا۔ یہ مت سمجھیے کہ نوجوان بے حیائی و بے غیرتی کا مظاہرہ کرنے والا کسی پسماندہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے بلکہ یہ تہذیب یافتہ اور دنیاوی ترقی میں آگے رہنے والے گھرانوں کے بچے ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کے بھی تمدن کی ہوا نکل چکی ہے اور خداوندانِ مغرب کو یہ احساس ستانے لگا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں ہمارا دامن اخلاقیات سے بالکل خالی ہو چکا ہے۔ دین سے محروم گھروں اور دماغوں میں مذہبی رجحانات واپس آئے ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ واپسی کس دین کی طرف ہوگی۔
البتہ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سچے و آخری دین کو صحیح خدوخال کے ساتھ میدانِ عمل تک پہنچائیں تاکہ بے دینی کے اندھیروں سے نکل کر آنے والے احباب اسلام کے اجالے سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بھی طرح سے مغرب کی تقلید کرنے کے بجائے اپنے مذہبِ اسلام کو فروغ دیں۔ آمین یارب العالمین ۔