بھارت میں دو روہنگیا پناہ گزینوں نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فیس بک پر نفرت انگیز روہنگیا مخالف مواد کی اشاعت روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔ روہنگیا کمیوٹنی کے ارکان کا کہنا ہے کہ بھارت کے سوشل میڈیا صارفین انہیں دہشت گرد، جہادی، غیرقانونی تارکین وطن اور دیگر توہین آمیز القابات سے نوازتے ہیں اور انہیں ملک سے بے دخل کرنے کے مطالبات کرتے ہیں۔
یہ پٹیشن گزشتہ ہفتے منظر عام پر آئی تھی جس میں بھارت کے ریگولیٹرز سے فیس بک کی نگرانی کرنے اورایسے نفرت انگیز اور نقصان دہ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کا رخ روہنگیا کمیوٹنی کی طرف ہوتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کی دستاویزات اور بیرونی رپورٹس سے بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیس بک کے پلیٹ فارم پر روہنگیا کمیونٹی کے بارے میں غلط معلومات، جعلی خبروں، نفرت انگیز اور سیاسی تفرقہ انگیز مواد سے بھارت کے اندر اور بیرون ملک ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت میں دو روہنگیا پناہ گزینوں نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فیس بک پر نفرت انگیز روہنگیا مخالف مواد کی اشاعت روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔
روہنگیا کمیوٹنی کے ارکان کا کہنا ہے کہ بھارت کے سوشل میڈیا صارفین انہیں دہشت گرد، جہادی، غیرقانونی تارکین وطن اور دیگر توہین آمیز القابات سے نوازتے ہیں اور انہیں ملک سے بے دخل کرنے کے مطالبات کرتے ہیں۔ یہ پٹیشن گزشتہ ہفتے منظر عام پر آئی تھی جس میں بھارت کے ریگولیٹرز سے فیس بک کی نگرانی کرنے اورایسے نفرت انگیز اور نقصان دہ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کا رخ روہنگیا کمیوٹنی کی طرف ہوتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کی دستاویزات اور بیرونی رپورٹس سے بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیس بک کے پلیٹ فارم پر روہنگیا کمیونٹی کے بارے میں غلط معلومات، جعلی خبروں، نفرت انگیز اور سیاسی تفرقہ انگیز مواد سے بھارت کے اندر اور بیرون ملک ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت ان تمام روہنگیا پناہ گزینوں کو غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر دیکھتا ہے جو عشروں سے وہاں پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں۔
سن 2014میں نریندرمودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے روہنگیا پناہ گزینوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی سو روہنگیاز کو غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور درجنوں کو میانمار واپس بھیج دیا گیا ہے۔
نومبر 2022میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ بھارت میں 21 ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین ہیں۔پناہ گزینوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روہنگیا کمیونٹی کے خلاف نفرت آمیز پوسٹس اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی وجہ سے بھارتی معاشرے میں روہنگیا مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے خلاف تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
بھارت میں مقیم روہنگیا پناہ گزین اور روہنگیا ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کے بانی ڈائریکٹر صابر کو من کہتے ہیں کہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیر مہم نے ہماری کمیونٹی کو بھارتیوں کی نظر میں مجرم بنا دیا ہے جس سے روہنگیا مخالف جذ بات اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔










