موہالی/نئی دہلی/یو این آئی// پنجاب کے موہالی میں مشہور نجی اسکولوں کو چہارشنبہ کی صبح بم سے اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ اس کے بعد جلدی میں اسکول خالی کرا لیے گئے اور بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کم از کم سولہ ادارے اس سے متاثر ہوئے ۔ احتیاطی اقدام کے طور پر یادویندر پبلک اسکول (وائی پی ایس)، لرننگ پاتھس اسکول اور شیوالک پبلک اسکول جیسے کیمپس سے طلبہ کو چھٹی دے دی گئی۔ کیمپس کی مکمل تلاشی کے لیے بم ڈسپوزل اور انسداد تخریب کاری یونٹس کے ساتھ پولیس ٹیمیں تعینات کی گئیں۔ موہالی کے سٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ دلپریت سنگھ نے یو این آئی کو بتایا کہ موہالی کے 16 بڑے اسکولوں کو صبح ای میل کے ذریعے بم رکھے ہونے کی دھمکی ملی تھی، جس کے بعد بم ڈسپوزل دستوں سمیت تقریباً 250اہلکاروں کو کارروائی میں لگایا گیا۔
افسر نے کہا کہ صبح تقریباً 7:30 بجے موہالی کے کئی مشہور اسکولوں کو ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، جس کے بعد فوراً سکیورٹی ردعمل شروع کیا گیا۔ سینئر افسران کے ساتھ بم ڈسپوزل دستے ، انسدادِ تخریب کاری ٹیمیں اور مقامی پولیس تھانوں کے اہلکاروں کو کیمپس کی تفصیلی جانچ کے لیے تعینات کیا گیا۔ احتیاط کے طور پر اسکولوں کا گھیراؤ کر دیا گیا اور طلبہ و عملے کو گھر بھیج دیا گیا۔ اب تک کوئی مشتبہ شے نہیں ملی ہے۔ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اگر کچھ بھی مشتبہ نہیں ملتا تو جمعرات سے اسکول دوبارہ کھل جائیں گے ۔ ایک افسر نے بتایا کہ یہ دھمکی دہلی کے کئی اسکولوں کو پیر کے روز ملنے والی بم دھمکی ای میل کے دو دن بعد آئی ہے ، جس سے طلبہ، والدین اور اسکول حکام میں خوف پھیل گیا تھا اور سکیورٹی ایجنسیوں کو فوری مداخلت کرنی پڑی تھی۔ دھماکے کی وارننگ دینے والی ایک دھمکی آمیز ای میل کئی اسکولوں کو موصول ہوئی جس سے فوراً سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حکام کو دی گئی رپورٹ کے مطابق اس پیغام میں اشتعال انگیز نعرے شامل تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوپہر 1:11 بجے دھماکہ ہوگا۔ ای میل میں لکھا تھا، ‘دہلی خالصتان بنے گا۔ افضل گرو کی یاد میں۔ دوپہر 1:11 بجے دھماکہ ہوگا۔ ای میل میں اس ہفتے کے آخر میں پارلیمنٹ پر حملے کی بھی دھمکی دی گئی جس میں کہا گیا، 13 فروری کو دوپہر 1:11 بجے پارلیمنٹ میں دھماکہ ہوگا۔ پنجاب خالصتان ہے ۔










