ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 4 ہوہ گئی ، لوگوں کو احتیاط برتنے کی دی گئی ہدایت
نئ یدلی// دہلی میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے وہیں حکام سے لوگوں سے تاکید کی ہے کہ وہ احتیاط برتے ۔ دہلی میں منکی پاکس کا پہلا کیس درج ہو چکا ہے ۔ متاثرہ مریض کی عمر 34 سال ہے اور اس کی کوئی غیر ملکی سفر کی تاریخ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد 4 ہوہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص نے حال ہی میں ہماچل پردیش کے شہر منالی میں ایک اسٹیج پارٹی میں شرکت کی تھی۔منکی پاکس بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد متاثرہ مریض کو تقریباً تین دن قبل مولانا آزاد میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ مریض کے نمونے ہفتہ کے روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (این آئی وی) پونے کو بھیجے گئے تھے، ان کا نتیجہ پازیٹو آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے والے افراد کا پتہ لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل کیرالہ میں اس بیماری کے 3 مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے، تینوں ہی مریض متحدہ عرب امارات سے واپس لوٹے ہیں اور وہیں ایک متاثرہ شخص کے رابطے میں آئے تھے۔عالمی ادادرہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی منکی پاکس بیماری کی وجہ سے ہفتے کے روز عالمی صحت ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنام گیبریئس نے کہا کہ منکی پاکس کا پھیلنا بین الاقوامی تشویش کا باعث ہے۔خیال رہے کہ منکی پاکس وائرس متاثرہ جانوروں سے بالواسطہ یا براہ راست رابطے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی زخموں کے ساتھ براہ راست رابطہ، روبرو بات چیت، جلد سے جلد کے رابطہ اور سانس میں موجود قطروں کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔










