engineer rashid

دہشت گردی کی فنڈنگ کیس

پارلیمانی نمائندگی سے محرومی پر انجینئر رشید کی دہلی ہائی کورٹ سے رجوع

سرینگر//جموں و کشمیر سے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید، جو مبینہ دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں زیرِ سماعت ہیں، نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی انتخابی حلقے کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ عدالت کی جانب سے پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے لیے روزانہ اخراجات ادا کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جسٹس ویویک چودھری اور جسٹس انوپ جیرام بھمبھانی پر مشتمل بینچ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے، انجینئر رشید نے اس حکم میں ترمیم کی درخواست کی جو ایک ہم مرتبہ بینچ نے جاری کیا تھا۔ مذکورہ حکم کے تحت انہیں پارلیمنٹ میں شرکت کے لیے جیل حکام کو 4 لاکھ روپے بطور سفری اخراجات جمع کرانے کا پابند کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران بینچ نے ریمارکس دیے کہ جب حراستی پیرول دی جاتی ہے تو اس کے اخراجات عام طور پر متعلقہ شخص کو ہی برداشت کرنے ہوتے ہیں۔اس پر سینئر وکیل این ہری ہرن، جو انجینئر رشید کی نمائندگی کر رہے تھے، نے کہا کہ یہ شرط غیرمنصفانہ ہے کیونکہ “وہ ایک منتخب عوامی نمائندے ہیں اور صرف اخراجات ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنے حلقے کی نمائندگی نہیں کر پا رہے۔انہوں نے مزید کہا، “اگر ایسی شرط عائد کی جائے کہ وہ پارلیمنٹ نہ جا سکیں، تو یہ ملک میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں مداخلت کے مترادف ہے۔” وکیل نے دعویٰ کیا کہ جب انجینئر رشید نے حلف لیا تھا، “ریاست نے اس وقت کوئی اخراجات طلب نہیں کیے تھے۔سینئر وکیل نے کہا، “یہ شرائط اس لیے عائد کی جا رہی ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح میرے حلقے کی آواز پارلیمنٹ میں نہ پہنچ سکے۔وکیل نے واضح کیا کہ وہ حکمِ عدالت پر نظرثانی نہیں بلکہ صرف شرائط میں ترمیم چاہتے ہیں۔ “حکم یہ ہے کہ انہیں حراست میں لیا جائے، مخصوص شرائط کے تحت۔ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ شرط خود حکم کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 12 اگست کو مقرر کی ہے۔واضح رہے کہ بارہمولہ سے منتخب ایم پی انجینئر رشید، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عمر عبداللہ کو شکست دی تھی، دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کو مالی معاونت فراہم کی۔انہیں 2019 سے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے، جب قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے انہیں 2017 کے دہشت گردی فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں انہیں جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں مہم چلانے کے لیے ایک ماہ کی عبوری ضمانت دی گئی تھی۔NIA کی ایف آئی آر کے مطابق، انجینئر رشید کا نام اس وقت سامنے آیا جب شریک ملزم تاجر ظہور وٹالی سے تفتیش کی گئی۔