اسرائیل کی طرح بھارت بھی دہشت گردی کے خلاف مستقل اور غیر سمجھوتہ پالیسی رکھتا ہے// وزیراعظم
سرینگر//یو این ایس// وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف نہایت سخت اور غیر مبہم مو?قف اختیار کیا اور کہا کہ’’کسی بھی مقصد یا نظریے کے نام پر بے گناہ شہریوں کا قتل جائز نہیں۔ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔‘‘وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے طویل اور کربناک تجربے سے گزر چکے ہیں اور دونوں ممالک کی پالیسی’’زیرو ٹالرنس‘ پر مبنی ہے، جس میں کسی قسم کے دوہرے معیار کی گنجائش نہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم مودی نے 7 اکتوبر کوحماس کے دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی عوام کے ساتھ بھارت کے عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا پیغام لے کر ائے ہیں۔انہوں نے کہا’’میں بھارت کے عوام کی جانب سے ہر اس جان کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہوں اور ہر اس خاندان سے ہمدردی رکھتا ہوں جن کی دنیا 7 اکتوبر کے بربر دہشت گردانہ حملے میں اجڑ گئی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، آپ کے غم میں شریک ہیں۔ بھارت اس لمحے میں اور اس کے بعد بھی، پورے یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بھارت کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بھی برسوں تک دہشت گردی کا زخم سہا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم 26/11 ممبئی حملوں کو نہیں بھولے، جن میں اسرائیلی شہریوں سمیت بے شمار بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔ اسرائیل کی طرح بھارت بھی دہشت گردی کے خلاف مستقل اور غیر سمجھوتہ پالیسی رکھتا ہے، جس میں کوئی دوہرا معیار نہیں۔‘‘وزیراعظم مودی نے کہا کہ دہشت گردی محض ایک سیکورٹی چیلنج نہیں بلکہ یہ معاشروں کو غیر مستحکم کرنے، ترقی کو روکنے اور اعتماد کو کمزور کرنے کی منظم کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا’’دہشت گردی کا مقابلہ مسلسل اور مربوط عالمی اقدام کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ دہشت گردی کہیں بھی ہو، وہ ہر جگہ امن کے لیے خطرہ بنتی ہے۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ اسی اصول کے تحت بھارت عالمی سطح پر ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو پائیدار امن اور علاقائی استحکام میں معاون ہوں۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تائید یافتہ غزہ امن اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام خطے کے تمام عوام کے لیے انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کی امید فراہم کرتا ہے، جس میں مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ بھی شامل ہے۔‘‘وزیراعظم مودی نے کہا کہ امن کا راستہ ا?سان نہیں ہوتا، تاہم بھارت مکالمے، امن اور استحکام کے لیے اسرائیل اور عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اسرائیل کی جرات، عزم اور کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم مودی اسرائیل کے دو روزہ دورے پر بدھ کے روز یروشلم پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارا نے بین گوریان ایئرپورٹپر ان کا خیرمقدم کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم مودی نے یاد واشیم کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے ہولوکاسٹ کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔










