Sakeena

دُور دراز علاقوں میں آنگن واڑی مراکز کے قیام کے اَصولوں میں نرمی کا معاملہ

مرکزی حکومت کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ سکینہ اِیتو

سری نگر//وزیر برائے سماجی بہبودسکینہ اِیتو نے کہا کہ حکومت دُور دراز علاقوں میں آنگن واڑی مراکز کے قیام کے اصولوں میں نرمی کے معاملے کو مرکزی حکومت کے ساتھ اُٹھائے گی تاکہ ضروری فوائد پسماندہ آبادی تک بھی پہنچ سکیں۔وزیر موصوفہ آج ایوان میں رُکن اسمبلی ریاض احمد خان کے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ نئے آنگن واڑی مراکز کے قیام کے معیار کو مرکزی وزارتِ برائے خواتین و اطفال فلاح و بہبود کے تحت منظم کیا جاتا ہے جن کے مطابق:400 سے 800 نفوس کیلئے ایک آنگن واڑی مرکز ،800 سے 1600 نفوس کیلئے 2 مراکز،1600 سے 2400 کے لئے 3 مراکزاور اس کے بعد ہر 800 کی آبادی پر ایک مرکز قائم کرنے کا اصول اَپنایا جاتا ہے۔وزیرسکینہ اِیتو نے مزید بتایا کہ فی الوقت جموں و کشمیر کے دُور دراز علاقوں میں اِضافی آنگن واڑی مراکز کے قیام یا اِفتتاح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ تاہم ایسے علاقے جو مقررہ اصولوں پر پورا اُترتے ہیں اور ابھی رہ گئے ہیں، ان کا معاملہ مرکزی وزارت خواتین و اطفال بہبود سے اُٹھایا جائے گا۔مزید برآں، وزیرموصوفہ نے کہا کہ حکومت ’’پوشن 2.0‘‘ سکیم کے تحت فراہم کردہ تمام سہولیات اور فوائد کو ہدف شدہ مستحقین بشمول دیہی اور دُشوار گزار علاقے تک پہنچانے کے لئے تمام ضروری اَقدامات کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سماج کے پسماندہ طبقوں کی نشاندہی کریں تاکہ محروم آبادی کو بھی سکیم کے دائرے میں شامل کیا جا سکے۔