world

دُنیا کی حقیقت کیا ہے؟ اور انسان کی حقیقت کیاہے؟

قیصر محمود عراقی

دنیا موت سے پہلے کی حالت کا نام ہے اور جو حالت موت کے بعد ہے وہ آخرت کہلاتی ہے۔ دنیا میں انسان کا قیام ایک محدود وقت کے لئے ہے، انسان کا مستقل گھر آخرت کا گھر ہے، دنیا تو صرف توشٔہ آخرت کے حصول کیلئے بنائی گئی ہے، وہی آخرت جس میں انسان کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔ لہذا یہ دنیا تو بارگاہِ الہیٰ کے مسافروں کا ایک راستہ ہے، جس پر چلنے کیلئے معرفتِ الہیٰ کی روشنی ضروری ہے جو اللہ تخلیقات میں مضمر ہے۔ ان تخلیقات کے ادراک کیلئے انسان کو ہوش وحواس عطا کئے گئے، جن کا عطا کرنا اس انسانی ڈھانچے کے ساتھ ممکن تھا جو پانی اور مٹی سے تخلیق کیا گیا ، جب تک یہ حواس انسان میں موجود رہتے ہیں اسے باخبر رکھتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص دنیا میں ہے لیکن جب یہ حواس رخصت ہوجاتے ہیں تو صرف انسانی ڈھانچہ رہ جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ آخرت کی طرف سفر کرگیا ہے۔ لہذا انسان کا دنیا میں رہنے کا مقصد توشۂ آخرت اور معرفتِ خداوندی کا حصول تھا، جس نے حاصل کرلیا وہ کامیاب ہوگیااور جس نے نہ کیا وہ اپنی آخرت خراب کر بیٹھا۔ انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک یہ کہ اپنے دل کو ہلاکت سے بچانے کیلئے اس کی غذا حاصل کرے کہ دل کی غذا تو محبت الہیٰ ہے ، لہذا اللہ کی محبت کے سوا دنیاوی چیزوں کی محبت میں ڈوبا رہنا دل کی ہلاکت کا موجب ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو شریعت دیکر بھیجا تاکہ لوگوں کو خواہشات کی حدود سے آگاہ کریں، کیونکہ انسان دنیاوی چیزوں کے حصول میں مشغول ہوکر دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتا ہے اور یہ بات بھول جاتا ہے کہ وہ دنیا میں کیو آیا تھا؟ بلکہ انسان محبت خدا سے غافل ہوکر اس دنیاوی کاموں میں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی سنار ہے ، کوئی لہار ہے، کوئی دھاتوں سے اوزار بناتا ہے، کوئی درزی ہے، کوئی لکڑی کا کام کرتا ہے، کوئی اجر ہے، کوئی اجیر ہے ان سب کو ایک دوسرے کی ضرورت پیش آتی ہے، کاروبار تشکیل پاتے ہیں، ان میںمعاملات پیدا ہوتے ہیںاس کے سبب سے مسائل اور عداوتیں پیدا ہوتیں ہیں، ہر ایک اپنا حق دوسرے کو دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ انسانوں نے اپنے آپ کو ان چیزوں میں گم کردیا ہے اور اپنے خدا کو بھول گئے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کو حساب بھی لینا ہے۔ اے مبتلائے فریب انسان! تیرا دن غفلت اور سرمستی سے عبارت ہے اور تیری رات نیند کی آغوش میں گذرتی ہے حالانکہ موت تیرے تعاقب میں ہے، تو ناپائیدار شئے پر جھومتا ہے اور اپنی خواہشات سے یو خوش ہوتا ہے جیسے سویا ہوا آدمی خوابوں سے خوش ہورہا ہوتا ہے، تو ایک ایسی شئے کی جانب دوڑتا ہے کہ جس سے عنقریب تجھے بادل نخواستہ جدا ہونا پڑیگا، دنیا میں اس طرح کی زندگی تو چوپائے بھی گذارتے ہیں ۔ اے اہل اسلام! لازمی ہے کہ لوگ سچے دل سے اس آیت پر غور کریں تاکہ انہیں سمجھ آجائے کہ انسان خواہ اس دنیا کی رنگینیوں سے جتنا بھی محفوظ ہو لے لیکن جب اللہ کا حکم آپہونچے گا تو ان میں سے کوئی بھی شئے آدمی کیلئے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ نہ بادشاہوں کیلئے اس کی بادشاہی ، نہ تونگر کیلئے اس کی تونگری ، نہ بالادست کیلئے اس کی بالادستی اور نہ ثروت مند کیلئے اس کی ثروت مندی۔ کہا گئے وہ بادشاہ جن کا شاہی کا سکہ چار دانگ عالم میں پھیلا ہوا تھا ، ان کے تاج بھی نہ رہے اور ان کے تخت بھی ختم ہوگئے، ان کے ملک ان کے چلے جانے کے بعد کھنڈروں میں بدل گئے، نہ کوئی بات سننے والا رہا اور نہ کوئی بولنے والا۔ حقیقت یہی ہے کہ دنیا ایک غلط خیال ہے جو جلد ہی مٹ جانے والا ہے، یہاں اللہ کے ڈر کے سوا آدمی کیلئے کوئی اثاثہ نہیں اس لئے خوش بخت ہے وہ آدمی جو اپنے وقت کو اپنے رب کی محبت میں اور اس کی رضا حاصل کرنے کی دوڑ میں گذارے، نفع اور تجارت کرے اور باقی رہنے والے سرمائے کو ترجیح دے۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو! میں بتائو تم کو وہ تجارت جوتمہیں عذابِ الیم سے بچا دے، ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں ، اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ، یہی تمہارے کیلئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اے اہل اسلام!ہلاکت اور نقصان میں ہے وہ آدمی جو اپنا وقت غفلت اور اعراض میں برباد کرے، آخرت کیلئے عمل میں کوتاہی کرے اور ان چیزوں کو ضائع کردے جو اللہ نے اس کیلئے پیدا کئے ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو!تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد میں غافل نہ کردیں، جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔صحیح بخاری کے ایک روایت میں رسول ﷺ کا فرمان ہے ’’میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس شخص کے جس نے انکار کردیا، پوچھا گیا کہ اے اللہ کے پیغمبر !انکار کرنے والا کون ہے؟ تو آپﷺنے فرمایا:جس نے میری فرمانبرداری کی وہ جنت میں چلا گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کردیا‘‘۔اس لئے اپنی زندگیوں کو واجبات کی ادائیگی، حرام افعال سے اجتناب اور نیکیوں وبھلائیوں کیلئے کوشا ںرہنے میں گذارو۔ اللہ کا فرمان ہے ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزماکر دیکھیں تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔ قارئین محترم !حسن عمل ایک امانت ہے ، اس دنیا میں حسن عمل بندے کیلئے ایک ایسی امانت ہے جو محنت ومشقت ، صبر ، جدوجہد اور برداشت کا تقاضہ کرتی ہے، سب سے کامل ہدایت والے لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ جہاد کرتے ہیںاور سب سے افضل جہاد نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے، شیطان کے ساتھ جہاد کرنا ہے، خواہش کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور دنیا کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔ جس نے اللہ کے لئے چار جہاد کر لئے اللہ اسے اپنی رضا کے راستوں پر چلا دیتا ہے جو اس کی جنت کی طرف جاتے ہیںاور جو شخص جہاد کو چھوڑ دے تو جس قدر کوتاہی کا مرتکب ہوگا اتنا ہی ہدایت سے محروم رہیگا ۔ اس اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرو اور ان آیات میں جن میں نصیحتیں اور تنبیہیںپنہاں ہیں ان پر غور کرو ، اس طرح کامیابی ، سلامتی اور کامرانی تمہارا مقدر بنے گی۔ مسلمانو!امت اسلامیہ کیلئے انفرادی ، اجتماعی اور قومی سطح پر جو چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ اس دنیا کی جانب میلان رکھے اسے آخرت پر ترجیح دے اور دنیاں میں کھوکر دین کو اس کے حقوق وواجبات کو اور اس کے دفاع کی ذمہ داری کو فراموش کردو۔ امت اسلامیہ اس وقت جس تباہ کن حالات سے دوچار ہے اور جو ذلت وپستی اس پر مسلط ہے اس سے آگاہ پہلے ہی آپ ﷺنے کردیا تھا۔ آپﷺنے فرمایا تھا: جب تم دھوکے سے کاروبار کرنے لگوگے ، گائیوںکے دم پکڑ لوگے ، کھیتی باڑی پر قناعت کر لوگے اور جہاد چھوڑدوگے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کردیگا جو اس وقت تک تم سے دور نہیں ہوگی جب تک تم اپنے دین کی جانب نہ پلٹ آئو۔ اس لئے تمام مسلمانوں کو اس بات کا جان لینا ضروری ہے کہ انہیں کسی بھی بڑے بڑے سے دنیاوی وسیلے سے کامیابی نہیں مل سکتی سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے دین پر استقامت اپنائیں۔ اللہ کے کتاب پڑھیں ، پڑھائیںاور اسے اپنا دستور وقانون اور اصول بنائیںاور خوشحالی ہو یا تنگ دستی ، آسانی ہو یا مشکل ہر حال میں اللہ کے پیغمبر کی سنت پر کاربند رہیں۔ 6291697668