دو قومی نظریے کا نفاذ اور ہندوستان کی تقسیم

عبد المجيد فيقى

ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دوران صوبہ بنگال کے نصف مشرقی حصے میں مسلم آبادی کی اکثریت تھی اور نصف مغربی حصے میں ہندو آبائی کی اکثریت تھی۔ ہندوؤں کی طرف سے ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۵ء کے درمیان مغربی بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور مشرقی نیم حصے کو مشرقی بنگال اور مغربی ٹیم حصے کو مغربی بنگال کے نام سے موسوم کیے جانے کا شدید مطالبہ کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی آبادیاں علیحدہ علیحدہ ہونے سے ان کے درمیان کشیدگی اوراختلاف کا امکان نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر تحریک بھی بروئے کارلائی گئی۔
برطانوی حکومت کو اس تحریک ( آندولن ) سے’’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘کا کارگر نسخہ مل گیا۔ غرضیکہ دوقومی نظریے کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل اختلاف پیدا کرنے کا امکان پیدا ہو گیا۔ لہذا ۱۹۰۵ء میں اولین برطانوی وائس رائے لارڈ کرزن کو حکومت برطانیہ (لندن)سے بآسانی تقسیم بنگال کی منظوری مل گئی ۔ نیز ۱۹۰۲؁ء میں اس ضمن میں با قاعدہ اعلامیہ (فرمان)جاری کر دیا گیا۔ دوقومی نظریے کے تحت بنگال کی تقسیم کے خلاف انڈین نیشنل کانگریس نے شدید احتجاج کیا ‘مگر لا حاصل:
کون سنتا ہے فغان ِدرویش
قہردرویش بجان د رویش
با لآخر۱۹۱۰؁ءمیں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس منعقدہ بمقام لاہور جس کی صدارت مولانا آزاد نے فرمائی۔ موصوف نے بہ حیثیت صدر تقسیم بنگال کو منسوخ کروانے کی غرض سے قرارداد منظور کروائی اور حکومت برطانیہ کو متنبیہ کیا کہ تقسیم بنگال کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی۔ لہذاتقسیم بنگال کو مسترد کر دیا جایے۔ مگر آل انڈیا نیشنل کانگریس کے مطالبے کو اس بنا پر خارج از بحث اور غیر ضروری قرار دیا گیا ۔
هندوستان ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہوا۔ ایک روز قبل یعنی ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی تشکیل ہوئی۔ پاکستان کے دو حصے ہویے۔ ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع صوبہ جات بشمول سندھ ،مغربی نصف پنجاب ،بلوچستان اور پختون مغربی پاکستان کے نام سے موسوم ہویے اور ہندوستان کا مشرقی بنگال مشرقی پاکستان کے نام سے موسوم ہوا۔ مگر۱۹۷۱؁ میں مشرقی پاکستان سے آزاد ہوکر بنگہ دیش کہلایا۔ مگر مغربی بنگال ۱۹۰۵ء سے اب تک مغربی بنگال کی حیثیت سے ہندوستان کی مشرقی سمت میں شامل ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے سبب بر صغیر میں وسیع پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کا طویل سلسلہ چلتا رہا۔ لاکھوں کی تعداد میں دونوں جانب کے مردو زن ،خوں ریزی اور قتل و غارت گری کے شکار ہوئے ہزاروں مکانات دکانیں اور کارخانے نذر آتش ہو یے ۔ البتہ فرقہ پرست عناصر مسلمانوں ہی کو تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کا ذمدار گردانتے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ضروری ہے کہ تاریخ کے پس منظر میں تقسیم ملک اور قیام پاکستان کے اسباب ملل پر روشنی ڈالی جائے۔
۱۹۲۰؁ءمیں سوامی دیانند سرسوتی نے آریہ سماج کی بنیاد ڈالی ۔ اس عظیم کے محمد و معاون اور محرک و صلاح کار لالہ لاجپت رائے نے فرمایا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ہندوستانی قوم کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے۔ اس لیے مسلمانوں کو ایک خطہ دے دے کر ہندوستان سے باہر کھدیڑ دیا جائے ۔اسی دوران آگرہ میں سوامی شردھانندنے بھارتیہ شدّھی نند نے بھارتیہ شدّھی سبھا قائم کی ۔ اس تنظیم کا مقصد مسلمانوں کو گھر واپسی کے نام پر جبراً ہندودھرم اپنانے پر مجبور کرنا ہے۔ بصورت دیگر انہیں ہندوستان کی سرحد سے باہر نکال دیا جائے۔
۱۹۲۱؁ء میں لالہ لاجپت رائے کی پیروی کرتے ہوئے ہندو مہا سبھا کے صدر بھائی پر مانند نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک متحدہ ہندوستانی قوم نہیں ہیں بلکہ دو مختلف قومیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہندوستان سے نکلنا ہوگا۔
۱۹۳۱ء میں ہی سردار ولبھ بھائی پٹیل نےشیاما پرساد مکرجی کے مکتوب کے جواب میں لکھا کہ مملکت ہند کے ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافی مسائل کا حل صرف اور صرف دونوں کے درمیان تقسیم ملک ہے۔
نوبل پرائز یافتہ بین الاقوامی شاعر و مفکر پنڈت روندرناتھ ٹیگور نے لالہ لاجپت رائے سردار ولبھ بھائی پٹیل ،شیاما پرشاد مکر جی ،سوامی دیانند سرسوتی ،سوامی شردھانند اور بھائی پر مانند کے دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند کی تجویزات کی شدید مذمت کی ، مگر ان کی شخصیت کو تشدد پسند افراد اور ان کے ہم عنان عناصر نے نا قابل اعتنا سمجھتے ہویے نظر انداز کر دیا۔ بلکہ مضحکہ خیزی کی غرض سے انہیں حسینی برہمن کے ہتک آمیز نام سے پکارا جانے لگا۔
۱۹۲۰؁ء سے ۱۹۴۰؁ء تک پنجاب کیسری ،ٹری بیون نیز ہندو مہا سمجھا اور آریہ سماج کے جرائد و رسائل میں متواتر مندرجہ بالا مفاہیم کا اعادہ کرتے ہویے یعنی دو قومی نظریہ کے نفاذ کو لازم و ملزوم گردانتے ہوئے مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے یا ہندوستان کی سرحد سے باہر کہیں اور چلے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اشتعال انگیز مضامین شائع ہوتے رہے۔ جن کا لب باب یہی ہے کہ مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں جو ایک ہندوستانی قوم کی حیثیت سے متحد نہیں ہو سکتیں۔ جبکہ ہندوستان مختلف ہندو قوموں کا متحدہ مجموعہ ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو سرحدی پہاڑی علاقوں کو بشمول مغربی پنجاب اور سندھ وغیرہ دے کر ہندوستان سے باہر نکال دیا جائے۔ ان مضامین کے تراجم ملک کے مختلف صوبوں کے اور علاقائی زبانوں کے جرائد و رسائل نیز اخبارات میں شائع ہوتے رہے جن کے سبب سے مسلمانوں کے خلاف ہندو اکثریت میں اشتعال پیدا ہوتا گیا اور فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ جاری ہوتا گیا ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نےکبھی دو قومی نظریہ کے نفاذ اور ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا۔
درج بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دو قومی نظریے کے تحت ہندوستان کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کروانے کی جدو جہد کن عناصر نے اور کن سر بر آوردہ قومی رہنماؤں نے کی، جن کے نام اس مضمون میں درج کیے جاچکے ہیں۔
اگر چہ محمد علی جناح کو تقسیم ہند کاذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ،فی الواقع محمد علی جناح کو قومی اتحاد اور قومی یکجہتی و آہنگی کےعلم بردار ہونے کے باوجود نا مساعد حالات میں مجبورا ان کو دوقومی نظریہ کے تحت ملک ہند کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کا مطالبہ کرنا پڑا ۱۹۴۰؁ء میں کن حالات سے دوچار ہو کر محمد علی جناح کو یہ مطالبہ کرنا پڑا اس کی وضاحت شری جسونت سنگھ کی تصنیف ” جناح اتحاد سے تقسیم تک” سے بخوبی ہوتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے ہمیشہ مستعدی کے ساتھ کوشش کرتے تھے۔ مگر جب ان کے چودہ نکاتی عریضۂ مطالبات کو سردار ولبھ بھائی پھیل اور پنڈت جواہر لال نہرو نے مسترد کر دیا تو انھوں نے مجبور ہو کر ۱۹۴۰ء میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی تجویز پیش کی جسے حکومت برطانیہ نے پر بنائے مصلحت فی الفور منظور کر لیا۔
اکثر متعصب فرقہ پرست افراد محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کو تقسیم ہند کا ذمہ دار ثابت کرنے کی ہمیشہ لا حاصل کوشش کرتے رہے ہیں جبکہ دو قومی نظریہ اور تقسیم ملک کا مسئلہ زیر بحث آنے سے چار سال قبل علامہ اقبال اس دار فانی سے دار البقا کو کوچ کر چکے تھے۔ انھوں نے نہ بھی دو قومی نظریہ کی وکالت کی اور نہ ہی تقسیم ملک کا مطالبہ کیا۔ ان کا ترانہ ہندی ” سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ ان کا عقیدہ ” حب الوطن من الایمان ‘‘پر مبنیتھا۔
پروفیسر پنڈت رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھ پوری کے مطابق علامہ اقبال نے پنجاب میں ہندوستانی ڈومینین کے تحت کسانوں، زرعی مزدوروں نیز مسلم مزارعین کے مفاد کے تحفظ کی خاطر انڈین ڈومینین میں ایک وفاقی نظام کی تجویزپیش کی تھی نہ کہ تقسیم ملک یا دو قومی نظریہ کی تائید کی تھی۔

9778291038