صو بہ کشمیر کی ایک روایت رہی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء اور دوسرے چیزوں کی قیمتوں کے بارے میں جب بھی سرکار نرخ مقرر کرتی ہے تو اس پرکبھی بھی عمل نہیں ہوا کرتی ہے سات برسوں کے دوران دودھ کی قیمتوں میں فی لیٹر 16روپے کااضافہ ہوا ہے اور 28روپے سے اب یہ 50روپے کے حساب سے وادی کے اطراف واکناف میں فروخت کیاجارہاہے اور پچھلے تین دنوں کے دوران بڑے شہروں اور قصبوں میں سبزیوں کے دام آسمان کوچھورہے ہیں اور سرکاری بابو کواس بارے میں آج تک بنک بھی نہیں ملی ہے ایک لاکھ روپے سے زیادہ کی تنخواہیں سرکاری خزانے سے وصول کرنے والے سرکاری افسران عوام کے مشکلات میں تو نڈہال ہوچکے ہیں لیکن دفتروںسے باہر ان کے اس غم میں اور کوئی ملازمان کاہم نواں بھی نہیں ہیں ۔صوبہ کشمیر کو دوودھ کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کادعویٰ ہے اور کہاجاتاہے کہ وادی کشمیرمیں ہردن چالیس لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار ہوا کرتی ہے جس میں سے کم سے کم 15 سے25 لاکھ لیٹر شہروں قصبوں میں فروخت ہوا کرتی ہے وادی کے بڑے شہروں قصبوں میں جودودھ فروخت ہواکرتاہے اس کامیعار کیسا ہے یہ ہمارے سرکاری اداروں کوجاننے کی کبھی بھی ضرورت نہیں پڑی ۔ 2014میں لفافہ بند دوھ کی قیمت 28روپے فی لفافہ مقرر کیاگیااور سات برسوں کے دوران 16سے 20روپے تک کااضافہ ہواہے ڈیری فارم چلانے والوں کے سامنے صوبائی انتظامیہ یاتو بے بس ہے یاپھر کچھ تو ہے جسکی پردہ داری کی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق شیرفروش اور ڈیری فارم چلانے والے کوخام دودھ اور دہی وادی میں فروخت کیاکرتے ہے اس کے میعار کی ضمانت کیاہے ایک ڈبہ بند دہی کی زیادہ سے زیادہ عمر 24گھنٹے ہے ڈیری فارم چلانے والے اسکی مدت دس دن بتا رہے ہیں اور اس کے لئے وہ ڈبے کے نیچے تاریخ بھی لکھ دیتے ہے پھر بازاروں میں نہ تو اس کی جانچ ہوا کرتی ہے اورنہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو دہی فروخت ہورہی ہے وہ کہی مضرصحت تو نہیں ہے ۔ جہاں دودھ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے وہی پچھلے تین دنوں کے دوران وادی کے بازاروں میں سبزیوں کے دام آسمان کوچھورہے ہے مٹر 120روپے گاجرسو روپے اور کسی بھی سبزی کی قیمت 30روپے سے کم نہیں ہے ۔بلیک مارکیٹنگ کاایک ایسا سلسلہ وادی میں شروع کیاگیاہے جسکی کوئی انتہاء نہیں ہے ۔صوبائی انتظامیہ کی جانب سے بار بار دعوے کئے جارہے ہیں کہ قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے سلسلے میں موثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم کروناوائرس پھوٹ پڑنے کے دو برسوں کے دوران کھانے پینے کی اشیاء تعمیراتی سامان اور دوسرے چیزوں میں جس قدراضافہ ہواہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سرکار بے بس ہے اور وہ ناجائز منافہ خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کے بجائے ان کی پردہ پوشی کررہی ہے دکھاوے کا جرمانہ وصول کرکے انہیں عوام کا استحصال کرنے کی کھلی چھوڑ دی جارہی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق ناجائز منافہ خوری کوقابوکرنے کی خاطر اگرسنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھائے جائیں تو ناجائز منافہ خوروں کوکبھی بھی عوام کودودوہاتھوں لوٹنے کاموقع نصیب نہیں ہوگا ۔










