مہنگائی نے دنیا کے بیشتر ممالک کو پریشان کر رکھا ہے۔ اکثر ممالک خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں ہو رہے اضافے سے فکرمند ہیں۔ اس درمیان امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا امریکہ کے حالات پر انتہائی اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحران کے دور میں نہیں جا رہا۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ میں بے روزگاری کی شرح سب سے کم ہے۔ یہ صرف 3.6 فیصد ہے۔ ہم اب بھی خود کو سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کے ساتھ پاتے ہیں۔‘‘
امریکی صدر بائیڈن نے عالمی سطح پر معاشی بحران کو لے کر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم تیز رفتار ترقی سے مستحکم ترقی کی طرف بڑھیں گے تو ایسے میں امریکہ کی معیشت تھوڑی نیچے آتی ہوئی نظر آئے گی۔ یہ اوپر والے کی خواہش ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہم بحران کے دور میں جا رہے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار امریکہ اور چین پر بحران کا اندیشہ گہراتا جا رہا ہے۔ پہلے سے ہی مہنگائی سے بے حال ایشیائی ممالک بھی اس بحران کی زد میں ہیں۔ بلومبرگ کی طرف سے دنیا کے ماہرین معیشت کے درمیان کرائے گئے ایک سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کو چھوڑ کر دنیا کے طاقتور ملک بحران کی زد میں آ سکتے ہیں۔سروے کے مطابق چین میں بحران کا اندیشہ 20 فیصد، امریکہ میں 40 فیصد اور یوروپ میں 50 فیصد ہے۔ اس سروے کے مطابق ماہرین معیشت نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے دنیا کے مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر رہے ہیں جس سے بحران کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ اس سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سری لنکا اس بار بحران کی مار سے بری طرح متاثر ہوگا۔ اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سری لنکا یا تو اس سال کے آخر میں یا پھر آئندہ سال کے شروع میں بحران کی مار برداشت کر رہا ہوگا۔










