گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کو اہم قومی گرانٹ حاصل
سرینگر/ یو این ایس / گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سرینگر نے دماغی چوٹ کے مریضوں کیلئے ذاتی نوعیت کے علاج کی نئی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی جانب سے ایک اہم قومی تحقیقی گرانٹ حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی کشمیر کی اس معروف طبی درسگاہ کو ملک کے ابھرتے ہوئے نیورو کریٹیکل کیئر تحقیقی اداروں میں شامل کرتی ہے۔یہ گرانٹ محکمہ اینستھیزیا، کریٹیکل کیئر، درد اور پیلی ایٹو میڈیسن کو دی گئی ہے، جس کے تحت ایک جدید تحقیقی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں ٹرانس کرینیئل ڈوپلر کے ذریعے دماغ میں خون کے بہاؤ کی خودکار ناپ کی جائے گی تاکہ ہر مریض کے لیے علیحدہ سیریبرل پرفیوڑن پریشر طے کیا جا سکے۔یہ تحقیقی منصوبہ ڈاکٹر رئیس نجیب، اسسٹنٹ پروفیسر کی قیادت میں اور پروفیسر حنا بشیر ، صدرِ شعبہ کی سرپرستی میں انجام دیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر رئیس نجیب نے کہاکہ یہ گرانٹ نہ صرف ہمارے سائنسی منصوبے کی افادیت کو تسلیم کرتی ہے بلکہ سرینگر میں بڑھتی ہوئی تحقیقی صلاحیتوں کا اعتراف بھی ہے۔ ہمارا مقصد ہر مریض کے دماغ کے ردعمل کو سمجھ کر علاج کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ یعنی ذاتی نوعیت کا دماغی علاج۔’’منصوبے کا بنیادی مقصد جدید دماغی مانیٹرنگ کو حیاتیاتی بایو مارکرز کے ساتھ مربوط کرنا ہے تاکہ ڈاکٹر یہ جان سکیں کہ ہر مریض کے دماغ کو صحتیاب ہونے کے لیے کس سطح کا خون بہاؤ درکار ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ ہندوستان کے آئی سی یوز میں دماغی چوٹ کے علاج کے طریقہ کار میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، جہاں سڑک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی دماغی چوٹیں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔پروفیسر حنا بشیر نے کہا کہ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے ساتھ اشتراک اس بات کی علامت ہے کہ اب دور دراز علاقوں میں کریٹیکل کیئر کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم تحقیق اور عملی علاج کے درمیان موجود خلا کو پْر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دماغی چوٹ صرف ہسپتال کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عوامی صحت کا چیلنج ہے۔پروفیسر حنابشیر کے مطابق یہ منصوبہ انفرادی سیریبرل پرفیوڑن مینجمنٹ کو فروغ دے گا، جس میں جدید نیورو مانیٹرنگ اور بایو مارکرز کو یکجا کر کے مریضوں کے لیے درست، ڈیٹا پر مبنی علاج فراہم کیا جائے گا۔قومی اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً 1.5 لاکھ افراد دماغی چوٹوں کے باعث ہلاک ہوتے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ طویل معذوری کا شکار رہ جاتے ہیں۔ عوامی ہسپتالوں میں اب بھی زیادہ تر علاج پرانے یا یکساں طریقوں کے مطابق کیا جاتا ہے، جبکہ جدید تحقیق ہر مریض کے لیے انفرادی مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔سڑک حادثات ان چوٹوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں، جن میں تقریباً 60 فیصد کیسز نوجوان مردوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں ابتدائی طبی امداد اور ٹراما مراکز کی کمی کے باعث تقریباً 95 فیصد مریضوں کو حادثے کے بعد کے ابتدائی ایک گھنٹے میں بروقت نگہداشت نہیں مل پاتی، جس سے شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔جی ایم سی سرینگر کا یہ منصوبہ ٹرانس کرینیئل ڈوپلر الٹراساؤنڈ کے ذریعے دماغ کی بڑی شریانوں میں خون کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کرے گا، تاکہ ڈاکٹروں کو ہر مریض کے لیے خون کے دباؤ کا ہدف اس کی جسمانی حالت کے مطابق مقرر کرنے میں مدد ملے۔ یہ تکنیک فی الحال ہندوستان کے بہت کم ہسپتالوں میں استعمال کی جاتی ہے۔










