خراب موسمی صورتحال :اگلے 60 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بارشوں کی پیشگوئی
سرینگر // ٹنل کے آر پار جاری خراب موسمی صورتحال کے چلتے محکمہ موسمیات نے اگلے 60 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بارشوں کی پیشگوئی کی ہے ۔ ادھر جموں صوبے میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں سطح آب کافی بڑھ چکی ہے جبکہ دریائے توی میں پانی کی سطح سیلابی خطرے کو پار کر گئی ہے ۔ جموں کے مختلف اضلاع میں انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے ۔ اسی دوران وادی کشمیر میں بھی موسمی صورتحال دگر گوں بنی ہوئی ہے اور شمال و جنوب میں شبانہ بارشوں کے بعد دن اور رات کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ٹنل کے آر پار خراب موسمی صورتحال مسلسل بنی ہوئی ہے ۔ بارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے ۔ جموں اور اس کے مضافات میںمسلسل بارشوں نے صورتحال انتہائی خراب بنی ہوئی ہے ۔ جموں کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشو ں کے نتیجے میں دریائے توی سمیت دیگر دریائوں میں پانی کی سطح سیلابی خطرے کے نیچے کو پار کر گئی ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی آنے کے نتیجے میں انتظامیہ نے الرٹ جاری کردیا ہے اور لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جموں سے نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جموں میں منگل کو بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران معمول کی زندگی متاثر ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے نتیجے میں کوئی علاقوں میں رہائشی مکانات اور سڑکوں کو نقصان پہنچ گیا جبکہ دریائے توی میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے ساتھ ہی پانی سیلابی خطرے سے اوپر بہہ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ سانبہ ضلع میں بھی دریائے بسنتر میں پابی کی سطح خطرے کے نیچے کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس کے علاوہ کھٹوعہ میں بھی دریا میں پانی کی سطح بہت اوپر آچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دریائے توی میں پانی کی سطح اوپر آنے کے بعد ایس ڈی آر ایف کی جانب سے جگہ جگہ پر اعلان کیا گیا اور لوگوں کو دریائے کے کنارے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اسی دوران وادی کشمیر میں بھی خراب موسمی صورتحال کا سلسلہ جاری ہے ۔ سوموار کی شام دیر گئے موسلاد ار بارشوں کے بعد دن اور رات کے درجہ حرار ت میں کافی کمی آئی ہے ۔ ادھر ماہر موسمیات نے منگل کو جموں و کشمیر میں اگلے 60 گھنٹوں کے دوران وسیع پیمانے پر بارش کی پیشگوئی کی ہے۔آزاد موسم کی پیشنگوئی کرنے والے فیضان عارف نے کہا کہ جموں خطے کے کچھ حصوں میں بھاری سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے، حالانکہ کبھی کبھار وقفے بھی ہو سکتے ہیں۔فیضان نے کہا’’دریاؤں اور ندیوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کچھ علاقے ممکنہ طور پر سیلاب کے خطرے کی سطح کو عبور کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے علاقے میں بھی بارش کی توقع ہے، لیکن جموں کے مقابلے میں کم شدت کے ساتھ۔ تاہم، کچھ علاقوں میں، خاص طور پر پیر پنجال کے پہاڑوں اور کولگام، شوپیاں اور اننت ناگ کے اونچے علاقوں میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ ‘‘ فیضان نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران دریائے جہلم کے پانی کی سطح میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔پیشنگوئی کرنے والے نے خبردار کیا ہے کہ بعض مقامات پر تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ طوفان بھی آسکتا ہے۔ طوفانی سیلاب اور بادل پھٹنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ دونوں خطوں میں ندیاں اور ندیاں بہ سکتی ہیں۔ پہاڑی راستے لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے خطرے سے دوچار رہنے کا امکان ہے۔لوگوں اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور شدید بارش کے اس دور میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ دریں اثنا مسلسل خراب موسمی صورتحال اور مسلسل بارشو ں کے نتیجے میں اسکول ایجوکیشن جموں نے 03ستمبر کو بھی تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور گیارہویں جماعت کے امتحانات کو ملتوی کردیا ہے ۔










