سری نگر//گزشتہ برس موسم گرماکے دوران کئی افرادبالخصوص کمسن بچے اورنوجوان دریائوں،ندی نالوں پرنہانے کے دوران غرقآب ہوکر اپنے والدین کوداغ مفارقت دے گئے ۔حکام کو غرقآب ہونے والوںکی نعشیں برآمد کرنے کیلئے کئی کئی دنوں تک محنت ومشقت کرنا پڑی ۔امسال چونکہ وادی میں قبل از وقت گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے تو سنجیدہ فکرلوگوںکویہ اندیشہ لاحق ہے کہ بچوں اورنوجوانوںکیساتھ پھر حادثات پیش آسکتے ہیں ۔جے کے این ایس کومتعدد ذی شعور شہریوںنے بتایاکہ امسال اپریل کے مہینے میں ہی چونکہ گرمی کی شدت کافی بڑھ گئی ہے تو بچوں اورنوجوانوںنے دریائوں اورندی نالوںکارُخ کرنا شروع کردیاہے ۔انہوںنے بتایاکہ بچے اورنوجوان آبگاہوںمیں غوطہ زن ہوتے دیکھے جارہے ہیں ۔ذی شعور شہریوںنے بتایاکہ بچوں اورنوجوانوںنے گرمی سے راحت پانے کے بہانے دریائوں اورندی نالوںمیں غوطہ زن ہونے اورکودنے کومشغلہ بنادیا ہے ۔انہوںنے اندیشہ ظاہر کیاکہ اگربچوں اورنوجوانوںمیں اس طرح کے غیرذمہ دارانہ اوربچگانہ رُجحان کی فوری روکتھام نہ کی گئی توگزشتہ برس کی طرح ہی امسال بھی نہ جانے کتنی معصوم اورقیمتی جانیں بلاوجہ ضائع ہوجائیں گی ۔ذی شعور شہریوںنے گزشتہ برس ڈپٹی کمشنر سری نگرسمیت کئی ضلع ترقیاتی کمشنروںکی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ احکامات کی یاددہانی کراتے ہوئے اس بات پرزوردیاکہ کسی المناک حادثے کانتظار کئے بغیر امسال بھی بچوں اورنوجوانوں کے دریائوں وندی نالوں پرجاکر نہانے کو ممنوعہ قرار دیاجائے اوراس حوالے سے فوری احکامات صادر کئے جائیں ۔










