تیزاب حملہ :کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن کا ہندوارہ مین چوک میں احتجاج

دربار مو روایت کے خاتمے کیخلاف جموں کے تاجروں کا پھر احتجاج

جموں// جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں جمعے کو تاجروں نے دربار مو روایت کے خاتمے کے خلاف ایک بار پھر احتجاج کیا۔راج تلک روڈ ٹریڈرس ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے احتجاجی تاجروں کا کہنا تھا کہ دربار مو روایت کے خاتمے کے ان کی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ایک احتجاجی تاجر نے نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہم کورونا کی مار اور جی ایس ٹی سے پہلے ہی پریشان تھے کہ اب دربار مو روایت کے خاتمے کی وجہ سے مزید پریشان ہو گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘حکومت تو ہمیں کوئی راحت فراہم نہیں کر رہی بلکہ ہم سے ہمارا روزگار چھین رہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں ہمیں اپنی دکانیں بند کرنی پڑیں گی۔احتجاج میں شامل کانگریس لیڈر یوگیش ساونی نے کہا کہ دربار مو کی روایت کو بند کرنے سے جموں کے تاجروں کا بہت نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا: ‘سرکار کہتی ہے کہ دربار مو کی وجہ سے 200 کروڑ روپے ضائع ہو جاتے تھے لیکن یہ کیوں نہیں کہتی ہے کہ اس کو بند کرنے سے تاجروں کا کتنا نقصان ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘کیا سرکار چاہتی ہے کہ یہاں کے تاجر اپنی دکانیں بند کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں؟ ہم اپنا احتجاج تب تک جاری رکھیں گے جب تک نہ سرکار اپنا فیصلہ واپس لیتی ہے۔بتا دیں سینیئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا بھی ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں زائد از سوا سو صدی پرانی دربامو کی روایت سے سب سے زیادہ فائدہ جموں کو تھا۔انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب میں وزیر اعلیٰ تھا تو میرا بھی خیال تھا کہ اس روایت کو ختم کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے کافی پیسہ اور وقت ضائع ہوتا تھا۔ان کا کہنا تھا: ‘دربار مو سے سب سے زیادہ فائدہ جموں کو تھا کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ جب دربا جموں میں لگتا تھا تو کشمیر کے ملازمین اپنی پوری فیملی کے ساتھ جموں منتقل ہو جاتے تھے اور چھ مہینوں تک وہیں سکونت اختیار کرتے تھے جبکہ جموں کے ملازمین اکیلے کشمیر آتے تھے۔