ممتا حکومت پر انتخابی فائدے کیلئے دراندازی کی پشت پناہی کا الزام//امت شاہ
سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کے روز مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت پر بنگلہ دیشی دراندازوں کو تحفظ دینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ریاست کی آبادیاتی ساخت خطرناک حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بنگال کے عوام دراندازی کے مسئلے ر سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی 2026 کے اسمبلی انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آکر اس مسئلے کا خاتمہ کرے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا،’’ہم نہ صرف دراندازوں کی شناخت کریں گے بلکہ انہیں ملک سے باہر بھی نکالیں گے۔ 15 اپریل 2026 کے بعد بنگال میں بی جے پی کی نئی حکومت ہوگی کیونکہ عوام اپنا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘‘امت شاہ نے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کا کام اس لیے مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ مغربی بنگال حکومت مطلوبہ زمین فراہم نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں آکر مشرقی سرحدوں سے دراندازی کو روکے گی اور بنگال کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے دہرایا’’بنگال میں بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی‘‘۔متوا برادری سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ایس آئی آر مشق کے باعث متوا سماج کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ہماری یہ عہد بندی ہے کہ مذہبی بنیادوں پر ستائے گئے تمام پناہ گزینوں کو ملک میں بسایا جائے گا۔ ممتا بنرجی بھی متوا برادری کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔‘‘امت شاہ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے خوف اور تشدد کی سیاست میں بائیں محاذ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا’’یہ سمجھا جاتا تھا کہ کمیونسٹوں کی شکست کے بعد تشدد اور انتقام کی سیاست ختم ہو جائے گی، مگر ٹی ایم سی نے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اب تک 300 سے زائد بی جے پی کارکنان قتل ہو چکے ہیں جبکہ 3 ہزار سے زیادہ کارکنان اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے۔ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صرف ٹی ایم سی کا پرچم اٹھانے کی شرط پر ہی واپس جا سکتے ہیں۔‘‘مرکزی وزیر داخلہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کے کئی سرکردہ رہنما عوامی پیسے کی لوٹ مار کے الزامات میں جیل جا چکے ہیں اور ان کے گھروں سے برآمد کی گئی نقدی گننے والی مشینیں حد سے زیادہ گرم ہو کر خراب ہو گئیں۔انہوں نے کہا،‘‘بنگال کے عوام خوف، بدعنوانی اور بدانتظامی کی جگہ اچھی حکمرانی لانے کا عزم کر چکے ہیں۔ریاست کی معیشت پر بات کرتے ہوئے امت شاہ نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کی اقتصادی حالت بدترین زوال کا شکار ہے اور 7 ہزار سے زائد صنعتیں ریاست چھوڑ کر جا چکی ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا،‘‘بنگال کے عوام کانگریس، بائیں محاذ اور ترنمول کانگریس کو موقع دے چکے ہیں، اب میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک بار بی جے پی کو بھی موقع دیں۔










