انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے خود سے بے خبری٬ انسان کا گمراہی اور تباہی کی طرف مائل ہونا سب اسی بے خبری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی بے خبری کی بنا پر بہت سی ناپسندیدہ صفات انسان کے دل میں اپنے پنجے گاڑ دیتی ہیں اور انسان غفلت کے دلدل میں جا کر پھنس جاتا ہے٬ یہاں تک کہ اس کی ترقی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ آخر میں انسانی روح اپنے کمال اور بلندی کو کھو بیٹھتی ہے اور انسان اپنے جذبات اور خواہشات کا غلام ہو کر جاودانی سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اِس منزل پر پہنچ کر اس پر وعظ و نصیحت اور کسی قسم کی اخلاقی ہدایت بے کار ہو جاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نفس کی اصلاح کوئی معمولی چیز نہیں اور نہ ہی اسے بآسانی انجام دیا جا سکتا ہے۔ مگر تربیتِ نفس کے لیے نفس کی معرفت اور اس کے ارتقاء کے لیے غور و فکر ضروری ہے٬ کیونکہ انسان معرفتِ نفس کے ذریعے بلند کمالات کو چھو سکتا ہے۔ جس کے اندر مطالعۂ نفس کی صلاحیت نہیں ہوتی٬ وہ خود کو رذالت کی دلدل میں پھنس کر بھی عرشِ اعلیٰ پر محسوس کرتا ہے۔ ہم پر سب سے پہلا فرض یہ عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنی ذاتی خصوصیات کی تحقیق کریں تاکہ اپنے سے بے خبری کے عالم میں ہمارے اندر جن عیوب نے نشوونما پائی ہے انہیں اکھاڑ کر پھینک دیں اور دوبارہ سر نہ اُٹھانے دیں۔
ہم جتنا اپنے عادات و اطوار کو منظم و آراستہ رکھیں گے٬ اسی قدر افکار میں بھی نظم و آرائش پیدا ہوتی جائے گی۔ اصلاحِ نفس کے لیے ضروری ہے کہ انسان پہلے اپنے عیوب کی طرف متوجہ ہو٬ کیونکہ ان سے باخبر اور آگاہ ہونے کے بعد ہی گمراہی کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے اور خود کو بُری صفات کے بھیانک انجام سے بچایا جا سکتا ہے۔










