ضلع میں 24گھنٹو ں کے اندر تمام خود ساختہ صحافیوں کا کام تمام
سرینگر / /انٹرنیٹ کی مختلف سماجی ویب سائٹس کا استعمال کرنے والے خود ساختہ صحافیوں نے صحافتی اقدار کی پامالی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے سرکاری سطح پر ان کو بے لگام چھوڑدیا گیا ہے تاہم ڈپٹی کمشنر کپوارہ امام الدین نے ضلع میں نام نہاد صحافیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی جانب سے سوشل میڈیااور دیگر ذرایع کا غلط استعمال کرنے کا سنجیدہ نوٹس لیا اور حکمنامہ جاری کرتے ہوئے مستند صحافیوں کی فہرست طلب کی اور اس حکمنامے میں واضح کیا تھا کہ جو کسی بھی مستند ادارے سے منسلک نہ ہو بلکہ غیر مستند ادارے کے ساتھ وابستہ ہوںیا اپنی مرضی کے تحت پوٹل ،فیس بُک ،انسٹی گرام پیج کھول کر صحافتی صف میں شامل ہونے کی کوششوں میں مصروف تھے کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لانے کا عندیہ دیا تھا ۔کپوارہ سے کشمیر پریس سروس کو اطلاعات موصول ہوئی کہ ڈپٹی کمشنر موصوف کے اس حکم نامے کے بعد نام نہاد میڈیا ادارے یا خود ساختہ صحافی جو ہر جگہ Logo ہاتھ میں لئے ہوئے مستند صحافیوں کے ہمراہ شامل ہوا کرتے تھے کہیں اب نظر نہیں آتے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ ضلع میں نام نہاد میڈیا اداروں جن کی تعداد آئے روز بڑھتی رہتی تھی کا نام ونشان ہی ختم ہوا ۔ڈی سی موصوف کے یہ اقدام قابل تقلید اور قابل تحسین ہیں کیونکہ ان خودساختہ صحافیوں نے جہاں صحافتی اقدار کو پامال کیا تھا وہیں یہ خود ساختہ صحافی سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کیلئے عذاب بن گئے تھے ۔یہاں تک یہ خود ساختہ صحافی مقامی افسران پر دبائو بڑھا کر ان سے ذاتی مفادات حاصل کرتے تھے اور عام لوگوں کو بھی تنگ طلب کرتے تھے اور گھریلو مسائل میں مداخلت کرکے سوشل میڈیا وائر ل کرتے تھے جو ایک سماجی بدعت بنا ہوا ہے اور ان کی ان حرکات کا کوئی پوچھنے والابھی نہیں تھا۔ تاہم ڈپٹی کمشنر کپوارہ کے اس قدم کو جہاں صحافتی برادری میں سراہا گیا وہیں عوامی حلقوں میں ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ان کا کہنا ہے کہ ڈی سی موصوف کے خود ساختہ صحافیوں کا کام تمام کرنے کا عمل دوسرے اضلاع کیانتظامیہ کیلئے بطور مشعل راہ ثابت ہوگا ۔ان کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں اسی طرح نام نہاد اور غیر مستند میڈیا ادارے قائم کئے ہوئے ہیں اور خود ساختہ صحافی سیاسی ،سماجی اور سرکاری حلقوں میں اس طرح اپنی شناخت بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ان کے سامنے اب حقیقی صحافیوں کو جگہ پانا مشکل بن گیا ہے ۔کیونکہ ان خود ساختہ صحافیوں نے ہر دفتر اور ہر افسر کے پاس اس طرح اپنا رعب جمایا ہوا ہے کہ بلیک میلنگ ،بھتہ خوری اور رشوت خوری کیلئے ان کی راہیں ہموار ہوئی ہیں جبکہ سماجی حلقوں میں بھی ان خودساختہ صحافیوں نے ایسا دبائو بنایا ہوا ہے کہ کوئی حق کی بات کرنے کی جرات نہیں کرتا ہے کیونکہ جب ہی کوئی شخص ان نام نہاد صحافیوں کے حرکات وسکنات پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے کوشش کرتا ہے تو یہ خود ساختہ صحافی اپنا احتساب کرنے کے بجائے اسی کا ایسا ویڈیو وائرل کرتے ہیں اس کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اگر کوئی افسران کے منہ لگنے کی کوشش کرتا ہے تواس پر ایسا الزام دھرتے تھے ہیں جس سے وہ کسی کوبھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ہے حالانکہ وہ الزام حقیقت سے بعید ہوتا ہے ۔اسی طرح گھریلو مسائل میں مداخلت کرکے ایسے معاملات سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے لانے کی گھنائونی حرکتیں انجام دیتے ہیں جس سے رشتے منقطع ہوجاتے ہیں ۔ان نام نہاد اور خود ساختہ صحافیوں کے ان بے ہودہ حرکتوں کی وجہ سے صحافت کے اس عظیم شعبے کی ہر سطح پر شبیہ خراب ہوچکی ہے اور ان کی وجہ سے صحافتی اقدار پامال ہورہے ہیں ۔ذرایع ابلاغ کے مستند اور معتبر اداروں کے منتظمین اور عملہ نے گورنر انتظامیہ اور صوبائی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد اور غیر مستند صحافتی اداروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے خود ساختہ صحافیوں کے غیر قانونی طورعوامی ،سماجی ،سرکار ی اور سیاسی معاملات کی کوریج کرنے اور صحافیوں کی صف میں جگہ دینے کو مسترد کیا جائے اور ڈپٹی کمشنر کپوارہ امام الدین کے طرز عمل کو اپناتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنروں کو خود ساختہ میڈیا اداروں اور صحافیوں کے خلاف سنجیدہ نوٹس لینے کی ہدایت دی جائے ۔ادھر عوامی حلقوں نے بھی گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان خود ساختہ صحافیوں اور نام نہاد اداروں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کیلئے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس کا سنجیدہ نوٹس لیں تاکہ صحافت کے نام پر کسی کا استحصال نہ ہوجائے اور ضلع کپوارہ کی طرح تمام اضلاع میں زرد صحافت کا خاتمہ ہوجائے اورلوگ عزت کی زندگی بسر سکیںگے










